چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 39 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 39

39 (۳) یہ کہ مسلمانوں کو نہ صرف مجاہدوں والا درجہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے بلکہ مجاہد وں والے درجوں میں سے بھی سب سے اعلیٰ درجہ یعنی فردوس کو اپنا مقصد بنانا چاہیے۔(۴) یہ کہ جنت کے مختلف درجے خدا تعالیٰ کے قرب کے لحاظ سے مقرر کئے گئے ہیں اسی لئے جنت کے اعلیٰ ترین درجہ کو عرش الہی کے قریب تر رکھا گیا ہے۔(۵) یہ کہ جنت کی نعمتیں مادی نہیں ہیں بلکہ روحانی ہیں کیونکہ ان کا معیار خدا کا قرب مقرر کیا گیا ہے اور گو ان نعمتوں میں روح کے ساتھ جسم کا بھی حصہ ہو گا جیسا کہ اعمال میں بھی اس کا حصہ ہوتا ہے مگر جنت میں انسان کا جسم بھی روحانی رنگ کا ہو گا۔اس لئے وہاں کی جسمانی نعمتیں بھی دراصل روحانی معیار کے مطابق بالکل پاک وصاف ہوں گی۔یہ وہ لطیف علم ہے جو ہمیں اس حدیث سے حاصل ہوتا ہے اور آنحضرت صلی الی یوم کے اس ارشاد کا منشاء یہ ہے کہ تا مسلمانوں کے مقصد اور آئیڈیل کو زیادہ سے زیادہ بلند کیا جائے۔بے شک ایک مسلمان جو نماز اور روزہ کے احکام وغیرہ کو تو خلوص نیت سے پورا کرتا ہے (اس حدیث میں حج اور زکوۃ کے ذکر کو اس لئے ترک کیا گیا ہے کہ وہ ہر مسلمان پر واجب نہیں بلکہ صرف مستطیع اور مالدار لوگوں پر واجب ہیں) مگر اپنے گھر میں قاعد بن کر بیٹھا رہتا ہے وہ خدا کی گرفت سے بچ کر نجات حاصل کر سکتا ہے مگر وہ ان اعلیٰ انعاموں کو نہیں پاسکتا جو انسان کو خدا تعالیٰ کے قرب خاص کا حق دار بناتے ہیں۔پس ترقی کی خواہش رکھنے والے مومنوں کا فرض ہے کہ وہ قاعد انہ زندگی ترک کر کے مجاہدانہ زندگی اختیار