چالیس جواہر پارے — Page 38
38 روزے رکھتا ہے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ پر گویا یہ حق ہو جاتا ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے خواہ ایسا انسان خدا کے رستہ میں جہاد کرے یا کہ اپنے پیدائشی گھر کے باغیچہ میں ہی قاعد بن کر بیٹھار ہے۔صحابہ نے عرض کیا۔تو کیا یار سول اللہ ! ہم یہ بشارت لوگوں تک نہ پہنچائیں ؟ آپ نے فرمایا۔جنت میں ایک سو درجے ایسے ہیں جنہیں خدا نے اپنے مجاہد بندوں کے لئے تیار کر رکھا ہے اور ہر درجہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔پس اے مسلمانو! جب تم خدا سے جنت کی خواہش کرو تو فردوس والے درجہ کی خواہش کیا کرو جو جنت کا سب سے وسطی اور سب سے اعلیٰ درجہ ہے اور اس سے اوپر خدائے ذوالجلال کا عرش ہے اور اسی میں سے جنت کی تمام نہریں پھوٹتی ہیں۔تشریح: میں نے اپنے عام اصول انتخاب کے خلاف یہ لمبی حدیث اس لئے درج کی ہے کہ اس حدیث سے ہمیں کئی اہم اور مفید اور اصولی باتوں کا علم حاصل ہوتا ہے اور وہ باتیں یہ ہیں۔(۱) یہ کہ جنت میں صرف ایک ہی درجہ نہیں ہے بلکہ بہت سے درجے ہیں جن میں سے سب سے اعلیٰ درجہ فردوس ہے جو گویا جنت کی نہروں کا منبع ہے۔(۲) یہ کہ جنت میں مجاہد مسلمانوں کے کم سے کم درجہ اور قاعد مسلمانوں کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ میں بھی اتنا ہی فرق ہو گا جتنا کہ زمین اور آسمان میں فرق ہے۔