چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page v of 178

چالیس جواہر پارے — Page v

V بِسْمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمُ عرض حال میں نہیں جانتا کہ اس کی وجہ کیا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مجھے بچپن سے حدیث کے علم کے ساتھ ایک قسم کا فطری لگاؤ رہا ہے اور جب کبھی بھی میں کوئی حدیث پڑھتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں گو یار سول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک ہو کر حضور کے مقدس کلام سے مشرف ہو رہا ہوں۔میرا تخیل مجھے آج سے چودہ سو سال قبل مکہ مکرمہ کی مسجد حرام اور مدینہ طیبہ کی مسجد نبوی اور حرمین شریفین کی گلیوں اور عرب کے صحرائی رستوں میں پہنچا کر رسول اکرم صلی للی کم کی روحانی صحبت اور معنوی رفاقت کا لطف عطا کر دیتا ہے اور پھر میں کچھ وقت کے لئے دنیا سے کھویا جا کر اس فضا میں سانس لینے لگتا ہوں جس میں ہمارے محبوب آقا نے اپنی خداداد نبوت کے تئیں مبارک سال گزارے۔لیکن غالباً جس حدیث نے میرے دل اور دماغ پر سب سے زیادہ گہرا اور سب سے زیادہ وسیع اثر پیدا کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایسے ارشاد سے تعلق رکھتی ہے جس میں فقہ اور علم کلام کا تو کوئی عصر شامل نہیں مگر میرے ذوق میں وہ اسلام اور روحانیت کی جان ہے۔روایت آتی ہے کہ