چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 30 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 30

30 حضرت مولانا مولوی محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیو بند (ولادت ۱۲۴۸ھ وفات ۱۲۹۷ھ ) جو قریب کے زمانہ میں ہی بہت بڑے عالم گزرے ہیں اور ان کا مدرسہ علوم مشرقیہ کی تعلیم کے لئے بر عظیم ہندو پاکستان میں بہت بڑی شہرت کا مالک ہے فرماتے ہیں۔عوام کے خیال میں تورسول اللہ لا علم کا ختم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم و تأخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔پھر مقام مدح میں وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَم النبيين فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی کی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔“ (تحذیر الناس صفحہ نمبر 3 و نمبر (25) پس لا ریب یہی نظریہ درست اور صحیح ہے کہ ہمارے آقا آنحضرت صلی نیم کے وجود باجود میں نبوت اپنے کمال کو پہنچ چکی ہے اور دائمی شریعت کا نزول پورا ہو چکا ہے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں مگر وہی جو آپ کا خوشہ چین بن کر آپ کی غلامی میں آپ کی مہر تصدیق کے ساتھ نبوت کے انعام کا وارث بنتا ہے۔کاش لوگ اس لطیف نکتہ کو سمجھیں۔☆☆☆