چالیس جواہر پارے — Page 23
23 نہیں تھا۔چوتھے مجھے خدا کے حضور شفاعت کا مقام عطا کیا گیا ہے اور پانچویں مجھ سے پہلے ہر نبی صرف ایک خاص قوم کے لئے مبعوث ہو تا تھا لیکن میں ساری دنیا اور سب قوموں کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔تشریح: اس حدیث میں ہمارے آقا فداہ نفسی) کی پانچ ممتاز خصوصیات بیان کی گئی ہیں جس سے آپ کی ارفع شان اور آپ پر خدا تعالیٰ کی غیر معمولی شفقت کا ثبوت ملتا ہے۔پہلی خصوصیت آپ کی یہ ہے کہ آپ کو ایک مہینہ کی مسافت کے اندازے کے مطابق خداداد رعب عطا کیا گیا۔چنانچہ تاریخ اسلام اس بات کی زبر دست شہادت پیش کرتی ہے کہ کس طرح آنحضرت صلی للی علم کی بظاہر کمزوری اور فقر کی حالت کے باوجود ہر دشمن آپ کے خداداد رعب سے کانپتا تھا حتی کہ بسا اوقات ایسا ہوا کہ دشمن نے مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا مگر جب آنحضرت صلی للی علم صحابہ کی ایک قلیل جماعت لے کر اس کے مقابلے کے واسطے نکلے تو وہ آپ کی آمد کی خبر سنتے ہی بھاگ گیا۔پھر جب آنحضرت صلی اللہ ہم نے اس زمانہ کے سب سے بڑے بادشاہ قیصر روم کو ایک تبلیغی خط لکھا تو اس نے آپ کے حالات سن کر کہا کہ اگر میں اس نبی کے پاس پہنچ سکوں تو آپ کے پاؤں دھونے میں اپنی سعادت سمجھوں'۔دوسری خصوصیت آپ کی یہ ہے کہ آپ کے لئے ساری زمین مسجد بنادی گئی جس کے نتیجہ میں ایک مسلمان جہاں بھی اسے نماز کا وقت آجائے اپنی نماز ادا کر سکتا ہے اور دوسری قوموں کی طرح اسے کسی خاص جگہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔یہ اس لئے ضروری تھا 1 : بخاری کتاب تفسير القرآن باب قل يا اهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا سة