چالیس جواہر پارے — Page 9
9 (۱۱) حدیث موضوع: یعنی وہ حدیث جس کے متعلق یہ ثابت ہو جائے کہ وہ کسی دروغ گو راوی نے اپنی طرف سے وضع کر کے بیان کر دی ہے۔(۱۲) اثر : (جس کی جمع آثار ہے) اس روایت کو کہتے ہیں جو صرف کسی صحابی کے قول پر مشتمل ہو اور اس میں آنحضرت صلی ال نیم کی طرف کوئی بات منسوب نہ کی گئی ہو۔اس سے ظاہر ہے کہ اثر دراصل حدیث کی اقسام میں شامل نہیں ہے بلکہ ایک جداگانہ چیز ہے مگر چونکہ حدیث کی کتابوں میں بالعموم آثار بھی شامل ہوتے ہیں اس لئے بعض اوقات عام لوگ ان دونوں اصطلاحوں میں فرق نہیں کرتے۔حدیث اور سنت میں فرق: ایک ضروری بات یاد رکھنی چاہیے کہ گو عام لوگ حدیث اور سنت میں فرق نہیں کرتے مگر دراصل یہ دونوں چیزیں الگ الگ ہیں۔حدیث تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان افعال یا اقوال کا نام ہے جو راویوں کی زبانی روایت کی بنا پر سینہ بہ سینہ نیچے پہنچے اور پھر ایک سو یا ڈیڑھ سو یا دو سو یا اڑھائی سو سال کے بعد لوگوں کے سینوں سے جمع کر کے کتابی صورت میں مرتب کر لئے گئے لیکن اس کے مقابل پر سنت کسی لفظی روایت کا نام نہیں ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس تعامل کا نام ہے جو آپ نے کسی دینی امر میں اختیار فرمایا اور اپنی نگرانی میں اپنے صحابہ کو اس پر قائم فرما دیا اور پھر اس طرح عملی نمونہ کی صورت میں یہ تعامل بعد میں آنے والے لوگوں تک پہنچا مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر