چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 161 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 161

161 اور نہ پہنچ سکتی ہے۔آپ نے خدائی تائید و نصرت سے قرآن کے مستور اشاروں کو حدیث کے منشور اوراق پر سجا کر رکھ دیا ہے لیکن اس مادی عالم کی طرح جو حضرت آدم سے لے کر اس وقت تک ہر زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرتا آیا ہے۔قرآن بھی در حقیقت ایک روحانی عالم ہے جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور اسی لئے اس کے متعلق خد اتعالیٰ فرماتا ہے کہ إن من قبي الا عند كا عرائدُهُ وَمَا للإلهُ إِلَّا بِقَدَرٍ تَعْلُومٍ یعنی ہمارے پاس ( قرآن میں ) ہر قسم کے روحانی اور علمی خزانے موجود ہیں مگر ہم انہیں ایک فیصلہ شدہ اندازے کے مطابق صرف حسب ضرورت ظاہر کرتے ہیں۔“ پس اس میں کیا شک ہے کہ دراصل ہر علم و حکمت کی چیز مومن کی ضالہ ہے کیونکہ اس کا بیچ قرآن مجید میں موجود ہے اور قرآن مومن کا اپنا خزانہ ہے خواہ کوئی شخص اس کے اندر کے ذخیروں پر آگاہ ہو یا نہ ہو۔کاش دنیا قرآن کے مقام کو سمجھے اور کاش دنیا حدیث کے ان جواہر پاروں کی قدر بھی پہچانے جو ہمارے آقا نے قرآن کی کان سے نکال کر ہمارے سامنے پیش کئے ہیں۔وَاخِرُ دَعُونَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 1 : الحجر: 22