چالیس جواہر پارے — Page 160
160 اس حدیث کے تعلق میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ جو اس حدیث میں ضالة (کھوئی ہوئی چیز) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ ایک مسلمان کو جو بھی حکمت اور دانائی کی بات نظر آتی ہے وہ خواہ اسے پہلے سے معلوم ہو یا نہ ہو در حقیقت اس کا بیج اسلام میں موجود ہوتا ہے اور اسی لئے اسے صالہ کہا گیا ہے تا کہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جائے کہ یہ چیز حقیقتاً مومن کی اپنی تھی مگر اس کی نظر سے اوجھل رہ کر اس کے قبضہ سے باہر رہی۔اس صورت میں مومن کا یہ حق ہے کہ اسے جب بھی ایسی چیز ملے وہ اسے فوراً لے لے۔اس لئے نہیں کہ اسے کسی دوسرے کی چیز کے اڑا لینے کا موقع میسر آگیا ہے بلکہ اس لئے کہ اسے اپنی کھوئی ہوئی چیز واپس مل گئی ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ ہم نے ضالہ کے بعد یہ الفاظ فرمائے ہیں کہ فَهُوَ اَحَقُ بها ” یعنی مومن ہی اس چیز کا زیادہ حق دار ہے۔خواہ وہ بظاہر دوسرے کے قبضہ میں ہو اور اگر غور کیا جائے تو حقیقتاً ہر علم و حکمت کی چیز کا اصل الاصول اسلام میں موجود ہے جیسا کہ خود قرآن شریف فرماتا ہے کہ فِيهَا كُتُبْ قَيْمَةٌ یعنی ہر دائمی صداقت جو انسان کے کام کی ہے وہ قرآن میں موجود ہے۔“ مگر افسوس ہے کہ بہت تھوڑے لوگ ایسے ہیں جو غور کرتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ ہم نے بھی جو کچھ حدیث میں فرمایا ہے وہ بھی دراصل قرآن ہی کی تفسیر ہے لیکن ظاہر ہے کہ آپ کی نظر جہاں پہنچی ہے وہاں کسی اور کی نہیں پہنچی 1 : البينة: 4