چالیس جواہر پارے — Page 159
159 و آسمان اور سورج و چاند اور ستارے اور سیارے اور جنگل و پہاڑ اور دریا و سمندر اور شہر و ویرانے اور دیوانے و فرزانے اور انسان و حیوان اور مرد و عورت اور بچے و بوڑھے اور جاہل و عالم اور دوست اور دشمن سب ایک کھلی ہوئی علمی کتاب ہیں جن سے وہ اپنی استعداد اور اپنی کوشش کے مطابق علم کے خزانے بھر سکتا ہے۔اس لئے ہمارے آقا ( فداہ نفسی مال لیلی فرماتے ہیں کہ علم و حکمت کی بات مومن کی اپنی ہی کھوئی ہوئی چیز ہے۔اسے چاہیے کہ جہاں بھی اسے پائے لے لے اور اپنے دل و دماغ کی کھڑکیوں کو اس طرح کھول کر رکھے کہ کوئی علمی بات جو اس کے سامنے آتی ہے اس کے دل و دماغ کے خزانہ میں داخل ہونے سے باہر نہ رہے۔یہ وہ علم کی وسعت ہے جس کی طرف یہ حدیث اشارہ کر رہی ہے اور حق یہ ہے کہ اگر انسان کے دل و دماغ کی کھڑکیاں کھلی ہوں تو بسا اوقات ایک عالم انسان ایک بچہ سے بھی علم حاصل کر سکتا ہے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک بچے کو بارش اور کیچڑ میں بھاگتے ہوئے دیکھا اور اسے آواز دی کہ میاں بچے ! ذرا سنبھل کر چلو تا ایسانہ ہو کہ گر جاؤ۔بچے نے گھوم کر جواب دیا۔امام صاحب آپ اپنی فکر کریں کیونکہ میں تو ایک معمولی بچہ ہوں اگر میں گرا تو میرے گرنے کا اثر صرف میری ذات تک محدود رہے گا لیکن آپ دین کے امام ہیں اگر آپ پھسلے تو قوم کی خیر نہیں'۔امام صاحب کی طبیعت بڑی نکتہ شناس تھی فور فر مایا کہ اس بچہ نے آج مجھے بڑا قیمتی سبق دیا ہے۔1 : الدر المختار شرح تنویر الابصار صفحہ 15