چالیس جواہر پارے — Page 157
157 اور پھر جیسا کہ حدیث زیر نظر میں صراحت کی گئی ہے آنحضرت صلی یم نے علم کے حصول کو صرف مردوں تک محدود نہیں کیا بلکہ عورتوں کو بھی اسی طرح تاکید فرمائی ہے مگر افسوس ہے کہ ان تاکیدوں کے باوجود آج کل مسلمان مردوں اور عورتوں کا علمی معیار دوسری قوموں کے مقابلہ پر اعلیٰ ہو نا تو در کنار کافی ادنی اور پست ہے۔چنانچہ تقسیم ملکی سے پہلے ہندوستان کی ساری قوموں یعنی ہندوؤں ، سکھوں ، غیر ملکی عیسائیوں اور پارسیوں وغیرہ کے مقابلہ پر مسلمانوں کی خواندگی کی شرح فیصد سب سے کم تھی۔دنیا کے عالم ترین مصلح کی امت کا یہ نمونہ یقینا بے حد قابل افسوس ہے اور وقت ہے کہ مسلمان اپنے فرض کو پہچان کر دین و دنیا کے علم میں نہ صرف اوّل نمبر حاصل کرنے کی کوشش کریں بلکہ اس مقام کو پہنچیں جس کی گرد کو بھی کوئی دوسری قوم نہ پاسکے۔