چالیس جواہر پارے — Page 150
150 اختیار میں ہے اپنے متعلقین کو بے سہارا نہ چھوڑو اور ان کے لئے باوقار زندگی کا انتظام کرو اور دوسری طرف آپ نے ضمناً اس حدیث میں یہ اشارہ بھی فرمایا ہے کہ ظاہری تدبیریں توکل کے خلاف نہیں۔پس پہلے اپنی طاقت اور ذرائع کے مطابق ظاہری تدبیریں اختیار کرو اور پھر خدا پر توکل کرو۔بے شک جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہے یہ ایک نہایت مشکل مقام ہے کیونکہ انسان اپنی کمزوری میں ایک طرف جھک جانے کا عادی ہوتا ہے وہ یا تو صرف ظاہری تدبیروں پر جھک کر انہی کو اپنا خدا فرض کر لیتا ہے اور یا ظاہری تدبیروں کو کلیتاً چھوڑ کر خدا سے یہ امید لگا بیٹھتا ہے کہ میں خدا کے بنائے ہوئے اسباب کو ٹھکراتا ہی رہوں۔وہ بہر حال اپنے عرش سے اتر کر خود میرے کاموں کو سر انجام دے گا مگر حق یہی ہے کہ یہ دونوں نظریے باطل اور خلاف تعلیم اسلام ہیں اور سچا فلسفہ یہی ہے جس پر نیک لوگوں کا ہر زمانہ میں عمل رہا ہے کہ ” ایک طرف اپنی اونٹنی کا گھٹنا باند ھو اور دوسری طرف خدا پر توکل کرو۔“