چالیس جواہر پارے — Page 148
148 کہ میں اپنے پیچھے اپنا سارا مال خدا کے رستے میں وقف کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا۔نہیں یہ زیادہ ہے میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔اس پر انہوں نے دو تہائی مال وقف کرنا چاہا مگر آپ نے اس کی بھی اجازت نہیں دی۔آخر حضرت سعد نے ایک تہائی کی اجازت مانگی۔آپ نے اس کی اجازت دی مگر ساتھ ہی فرمایا کہ اگر تم اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو غنی چھوڑ کر جاؤ تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں ایسی حالت میں چھوڑو کہ وہ دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کرتے پھریں۔اس حکیمانہ ارشاد سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام پیش آمدہ حالات کے ماتحت ظاہری اسباب کو بھی مد نظر رکھتا اور دور اندیشی کی تعلیم دیتا ہے اور اس بات کو ہر گز پسند نہیں کرتا کہ ایک ایسا مسلمان جو مال رکھتا ہے وہ اپنے وارثوں کو محروم کر کے سارا مال خدا کے رستہ میں دے جائے اور اس کی پیچھے اس کے وارث بھیک مانگتے پھریں۔مگر افسوس ہے کہ آج کل بہت سے مسلمانوں نے تو کل کا غلط مطلب سمجھ رکھا ہے اور یہ خیال کر رکھا ہے کہ جس بات کو خدا پر چھوڑا جائے اس میں ظاہری تدابیر کی طرف سے بالکل آنکھیں بند کر لینی چاہیں حالانکہ اسلامی تو کل کا ہر گز یہ مطلب نہیں بلکہ صحیح اسلامی تو کل یہ ہے کہ اپنے حالات اور اپنی طاقت کے مطابق ساری ضروری تدبیریں اختیار کی جائیں اور اس کے ساتھ خدا پر تو کل بھی کیا جائے اور یقین رکھا جائے کہ ان ظاہری تدبیروں کے باوجود فتح و ظفر کی اصل کنجی صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔یہ ایک بہت مشکل بلکہ بظاہر متضاد مقام نظر آتا ہے جس پر عمل کرناتو در کنار اس کا سمجھنا بھی آسان نہیں مگر حق یہی ہے کہ صحیح اسلامی تو کل یہ ہے کہ ایک طرف تمام ضروری تدبیریں اختیار کی جائیں اور دوسری طرف ان