چالیس جواہر پارے — Page 142
142 دعوت کور د کر دو اور جو شخص ایسا کرے گا ” وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے “اور ایک دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ لَوْ دُعِيْتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ یعنی اگر کوئی غریب شخص بکری کا ایک کھر یا پایہ پکا کر بھی مجھے اپنے گھر پر بلائے تو میں اس کی دعوت کو ضرور قبول کروں گا۔“ اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے نادانستہ طو پر بلال اور بعض دوسرے غریب مسلمانوں کی کچھ دل شکنی ہو گئی۔جب آنحضرت صلی للی کم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا۔”ابو بکر جن غریبوں کا دل دکھا ہے ان کی دلداری کرو کیونکہ ان کی دلداری میں خدا کی خوشنودی ہے۔“ حضرت ابو بکر فوراً ان لوگوں کے پاس گئے اور عاجزی سے عرض کیا۔”بھائیو! مجھے خدا کے لئے معاف کرنا۔میری نیت دل شکنی کی نہیں تھی 2۔کیا اس تعلیم کے ہوتے ہوئے ایک سچی اسلامی سوسائٹی میں کوئی ناگوار طبقے پیدا ہو سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں، ہر گز نہیں بلکہ قصور ہمارا ہے جنہوں نے اسلام کی تعلیم کو بھلا کر سوسائٹی میں رقیبانہ کیمپ قائم کر رکھے ہیں۔بخاری کتاب النکاح باب من اجاب الى كراع 2 : مسلم کتاب فضائل الصحابہ باب من فضائل سلمان