چالیس جواہر پارے — Page 141
141 باعث تکلیف اور باعث اعتراض تمدنی میل ملاپ کا فرق ہوتا ہے جو گویا امیر وں اور غریبوں کو دو علیحدہ علیحدہ کیمپوں کی صورت دے کر انکے اندر ایک دائمی رقابت اور کش مکش کا رنگ پیدا کر دیتا ہے۔اسلام نے اس کش مکش کو دور کرنے اور جذباتی فرق کو سمونے کے لئے انتہائی کوشش کی ہے۔چنانچہ سب سے پہلے تو اسلام نے سارے مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دے کر ایک لیول پر کھڑا کر دیا ہے اور پھر حقوق کے معاملہ میں سب کے واسطے ترقی کا ایک جیسا رستہ کھول کر ملکی اور قومی عہدوں کو کسی ایک فریق کی اجارہ داری نہیں بنے دیا بلکہ حکم دیا کہ قومی اور ملکی عہدہ داروں کا انتخاب بلالحاظ غریب و امیر ، بلالحاظ قوم و قبیلہ محض اہلیت کی بناء پر ہونا چاہیے۔اس کے علاوہ غریبوں اور امیروں میں تمدنی تعلقات کو ترقی دینے اور انہیں گویا ایک خاندان کی صورت میں اکٹھا رکھنے کے لئے آنحضرت صلی ا لم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کوئی میر شخص دعوت کرے تو اس میں لازماً غریبوں کو بھی بلائے اور جب کوئی غریب شخص دعوت کرے تو امیر لوگ ایسی دعوت میں شرکت سے ہر گز انکار نہ کریں۔چنانچہ موجودہ حدیث اسی مشتمل ہے۔اس حدیث میں آنحضرت صلی کم فرماتے ہیں اور کن زور دار الفاظ میں فرماتے ہیں کہ ”بد ترین دعوت وہ ہے جس میں امیر لوگوں کو تو بلایا جائے مگر غریبوں کو نظر انداز کر دیا جائے “ اور پھر دوسری طرف امیروں کو متنبہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی غریب شخص تمہاری دعوت کرے تو تمہارے لئے ہر گز جائز نہیں کہ اس کی غربت کا خیال کر کے اس کی ارشاد پر