چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 132 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 132

132 کلام کر کے اس کی ہمت بڑھائی۔مدینہ میں ایک غریب بوڑھی عورت رہتی تھی جو ثواب کی خاطر مسجد نبوی میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔وہ چند دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر نہیں آئی تو آپ نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ فلاں عورت خیریت سے تو ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا۔یارسول اللہ !وہ بیچاری تو مختصر سے بیماری کے بعد فوت ہو گئی اور ہم نے آپ کی تکلیف کے خیال سے آپ کو اس کے جنازہ کی اطلاع نہیں دی۔آپ خفا ہوئے کہ مجھے کیوں بے خبر رکھا اور پھر اس کی قبر پر جاکر دعا فرمائی۔ایک دفعہ غالباً پردہ کے احکام سے پہلے جب کہ آپ اپنی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ کے پاس تشریف رکھتے تھے ایک شخص آپ سے ملنے کے لئے آیا۔آپ نے اس کی اطلاع پا کر حضرت عائشہ سے فرمایا۔یہ آدمی اچھا نہیں ہے مگر جب یہ شخص آپ کے پاس آیا تو آپ نے بڑی دلداری اور شفقت کے ساتھ اس سے گفتگو فرمائی۔جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ نے آپ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ اس شخص کو برا کہتے تھے مگر جب وہ آپ سے ملا تو آپ نے بڑی دلداری اور شفقت کے ساتھ اس سے باتیں کیں ؟ آپ نے فرمایا۔عائشہ ! کیا میر ایہ فرض نہیں کہ لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آؤں 2 ؟ ابو سفیان اسلام لانے سے پہلے آنحضرت صلی اللہ کی کا بد ترین دشمن تھا مگر جب قیصر رومانے اس سے پوچھا کہ محمد (صلی للی ) لوگوں کو کیا تعلیم دیتا ہے اور کیا اس نے کبھی تمہارے ساتھ کوئی بد عہدی یا غداری کی ہے ؟ تو 1 : بخاری کتاب الجنائز باب الصلاة على القبر بعد ما يدفن 2 : بخاری کتاب الادب باب لم يكن نبي الله فاحشا۔