چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 122 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 122

122 شروع کر دیتا ہے کہ یہ لوگ تو مر گئے اور تباہ ہو گئے اور خود اس بات کے کہنے سے ان کے دلوں میں مایوسی اور احساس کمتری پیدا کر کے ان کی تباہی کا رستہ کھولتا ہے۔پس آنحضرت صلی ای ایم نے کمال حکمت سے ہدایت فرمائی کہ بے شک غلطیوں پر مناسب تادیب اور اصلاح کا طریق اختیار کرو مگر بات بات پر شور مچانا کہ فلاں لوگ اپنی بد عملی میں تباہی کی حد کو پہنچ گئے ہیں خود اپنے ہاتھ سے ان کی تباہی کا بیج بونا ہے جس سے ہر دانا مصلح کو پر ہیز کرنا چاہیے۔اس معاملہ میں ہمارے آقاصلی این یکم کا اپنا مبارک اسوہ یہ تھا کہ جب ایک دفعہ صحابہ کی ایک پارٹی جسے آنحضرت صلی اللہ ہم نے کسی جنگی مہم پر بھیجا تھا میدان جنگ سے بھاگ کر مدینہ واپس پہنچ گئی تو اس خیال سے کہ اسلام میں دشمن کے سامنے سے بھاگنا حرام ہے ان پر ایسی شرم اور ندامت غالب تھی کہ وہ آنحضرت صلیالی نیلم کے سامنے نہیں آتے تھے۔جب آپ نے انہیں مسجد کے ایک کونہ میں منہ چھپا کر بیٹھے ہوئے دیکھا تو آپ ان کی طرف گئے اور انہیں آواز دے کر پکارا کہ تم کون لوگ ہو ؟ انہوں نے شرم کی وجہ سے آنکھیں نیچے کئے ہوئے عرض کیا کہ نَحْنُ الْفَرَّارُونَ "یار سول اللہ ہم بھگوڑے ہیں۔آپ نے ان کی شکست خوردہ ذہنیت کو بھانپ کر فوراجواب دیا کہ بَلْ أَنْتُمُ الْعَذَارُونَ وَانَا فِقتُكُمْ یعنی نہیں نہیں تم بھگوڑے نہیں ہو تم تو زیادہ زور سے حملہ کرنے کے لئے پیچھے ہٹے تھے اور تم کسی غیر کے پاس نہیں گئے بلکہ میرے پاس آئے ہو جو تمہارا قائد بن کر تمہیں پھر میدان جنگ میں لے جانے والا ہوں“۔پستی میں لڑھکتے ہوئے اور احساس کمتری کی لہروں میں تھیڑے کھاتے 1 : ترمذی ابواب الجهاد باب ما جاء فى الفرار من الزحف