چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 104 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 104

104 فقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَا وُهُ جَهَنَّمُ یعنی اے مومنو! جب تم کافروں کے سامنے لڑائی میں صف آرا ہو تو پھر کسی حال میں بھی انہیں چیچے نہ دکھاؤ اور جو شخص ایسے مقابلہ میں بیٹھے دکھائے گا سوائے اس کے کہ وہ کسی جنگی تدبیر کے طور پر ادھر ادھر جگہ بدلنے کا طریق اختیار کرے یا مومنوں کی کسی دوسری پارٹی کے ساتھ ملاپ پیدا کر کے دشمن کا مقابلہ کرنا چاہے تو وہ خدا کے غضب کو اپنے سر پر لے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے۔“ آج بظاہر ترقی یافتہ زمانہ میں بھی کوئی آزمودہ کار جرنیل اپنی فوج کو اس سے بہتر ہدایت نہیں دے سکتا۔ساتویں اور آخری بات اس حدیث میں بے گناہ مومن عورتوں پر بہتان لگانا بیان کی گئی ہے اور یہ بات بھی حقیقتا قومی اخلاق کو سخت صدمہ پہنچانے والی ہے مگر افسوس ہے کہ بے شمار لوگوں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ وہ بہتان والی باتوں کو شوق اور دلچسپی سے سنتے اور پھر انہیں اس طرح ہو ا دیتے ہیں کہ وہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی اور معصوم دلوں کو تباہ کرتی چلی جاتی ہیں حالانکہ اگر غور کیا جائے تو بعض لحاظ سے اصل بے حیائی کی نسبت بھی بے حیائی کا چر چا سوسائٹی کے لئے زیادہ مضر ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں کمزور لوگوں کے دل مسموم ہوتے ہیں اور بدی کا رعب مٹتا ہے۔بے حیائی کا فعل اگر اس کا علم صرف دو انسانوں تک محمد و د ر ہے تو باوجود ایک انتہائی گناہ ہونے کے بہر حال اپنے اثرات کے لحاظ سے محدود ہو تا الانفال: 16 1