چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 99 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 99

99 دوسری حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شرک کے اجتناب یعنی توحید کے مفہوم میں خدا پر ایمان لانے کے علاوہ رسول اللہ صلی للی کمر پر ایمان لانا بھی شامل ہے کیونکہ رسالت ہی کے ذریعہ دنیا میں حقیقی توحید قائم ہوتی ہے۔بہر حال اسلام میں شرک کے خلاف انتہائی تاکید پائی جاتی ہے اور ہر سچے مسلمان کا فرض ہے کہ شرک ظاہر اور شرک خفی دونوں سے بچ کر رہے۔شرک خفی کے متعلق حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کس لطیف انداز میں فرماتے ہیں کہ ہر چہ غیرے خدا بخاطر تست آن بت تست اے بایمان سست پر حذر باش زین بتان نهان دامن دل ز دست شان بربان یعنی ہر وہ چیز جو تیرے دل میں خدا کے مقابل پر جاگزیں ہے وہ تیرابت ہے اے ست ایمان والے شخص ! تجھے چاہیے کہ ان مخفی بتوں کی طرف سے ہوشیار رہے اور اپنے دل کے دامن کو ان بتوں سے بچا کر رکھ۔دوسری بات اس حدیث میں سحر بیان کی گئی ہے۔سحر کے معنی عربی زبان میں ایسی چیز کے ہیں جو نظر فریب ہو یعنی جس میں ایک چیز کی اصل حقیقت پر پردہ ڈال کر اسے دوسری شکل میں پیش کر دیا جائے اور جھوٹ کو سچ بنا کر دکھایا جائے۔اس قسم کا سحر جھوٹ کی ایک بد ترین قسم ہے کیونکہ اس میں جھوٹ کے ساتھ دھو کے اور چالا کی کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے۔اسی لئے عربی میں ملمع سازی کو بھی سحر کہتے ہیں مثلاً جب ایک چاندی کی چیز پر سونے کا پانی پھیر ابراہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 127,128