چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 98 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 98

98 کھانا (۵) یتیم کا مال غصب کرنا (۶) جنگ میں دشمن کے سامنے پیٹھ دکھانا اور (۷) بے گناہ مومن عورتوں پر بہتان باندھنا۔تشریح: اس حدیث میں آنحضرت صلی للی یکم نے سات ایسی باتیں بیان فرمائی ہیں جو بالآخر افراد اور قوموں کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں۔سب سے پہلی اور سب سے زیادہ اہم بات شرک ہے جس کے معنی خدا کی ذات و صفات میں کسی دوسرے کو شریک قرار دینا ہے۔شرک ایمانیات کے میدان میں جرم نمبر ایک کا حکم رکھتا ہے اور بالواسطہ طور پر شرک کے نتیجہ میں اخلاق پر بھی بھاری اثر پڑتا ہے۔شرک دو قسم کا ہے۔ایک شرک ظاہر ہے اور دوسرے شرک خفی۔شرک ظاہر تو یہ ہے کہ کسی انسان یا کسی دوسری چیز کو خدا کے برابر یا خدائی حکومت میں حصہ دار یا خدائی صفات کا مالک قرار دیا جائے جیسا کہ مثلاً ہند و خدا کے علاوہ بہت سے دیوتاؤں کو مانتے ہیں اور انہیں خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں یا جیسا کہ عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور اس کی صفات اور حکومت میں حصہ دار یقین کرتے ہیں اور شرک خفی یہ ہے کہ بظاہر تو خدا کا کوئی شریک نہ ٹھہرایا جائے اور خدا کی توحید کا مدعی بنایا جائے مگر عملاً کسی دوسری چیز کی ایسی عزت کی جائے جو صرف خدا کی کرنی چاہیے یا کسی دوسری چیز پر ایسا بھروسہ کیا جائے جو صرف خدا کی شایان شان ہے یا کسی دوسری چیز کے ساتھ ایسی محبت کی جاۓ جو صرف خدا کے ساتھ ہونی چاہیے یا کسی دوسری چیز سے ایساڈرایا جائے جو صرف خدا کا حق ہے۔اس قسم کا مخفی شرک بد قسمتی سے آج کل بہت مسلمانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔اسلام ان دونوں قسم کے شرکوں یعنی شرک ظاہر اور شرک خفی سے بچنے کا حکم دیتا ہے اور ایک