چالیس جواہر پارے — Page 82
82 18 دیندار عورت وہ ہے جو اپنے خاوند کا حق ادا کرتی ہے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْلَى قَالَ۔۔فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا تُؤَذِي الْمَرْأَةُ حَقِّ رَيْهَا حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقٌّ زَوْجِهَا (سنن ابن ماجه کتاب النکاح باب حق الزوج على المراة) ترجمہ: عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا یکم فرماتے تھے کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے کہ کوئی عورت اس وقت تک خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے والی نہیں سمجھی جا سکتی جب تک کہ وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی۔تشریح: جہاں آنحضرت صلی این یکم نے ایک طرف خاوند کو بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے وہاں دوسری طرف بیوی کو خاوند کے حقوق ادا کرنے کی بھی زبر دست تلقین فرمائی ہے کیونکہ گھر کی حقیقی سکینت اور حقیقی برکت صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتی ہے کہ خاوند بیوی کے ساتھ بہترین سلوک کرنے والا ہو اور بیوی خاوند کے حقوق پوری پوری وفاداری کے ساتھ ادا