چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 71 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 71

71 جذبہ پید اہو اور پھر ان کی تعلیم و تربیت کی طرف بھی خاص توجہ دیں تاکہ وہ بڑے ہو کر حقوق اللہ اور حقوق العباد کو بہترین صورت میں ادا کر سکیں اور ترقی کا موجب ہوں۔حق یہ ہے کہ کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی بلکہ کوئی قوم تنزل سے بچ نہیں سکتی جب تک کہ اس کے افراد اپنی اولاد کو اپنے سے بہتر حالت میں چھوڑ کر نہ جائیں۔اگر ہر باپ اس بات کا اہتمام کرے کہ وہ اپنی اولاد کو علم و عمل دونوں میں اپنے سے بہتر حالت میں چھوڑ کر جائے گا تو یقینا قوم کا ہر اگلا قدم ہر پچھلے قدم سے اونچا اٹھے گا اور ایسی قوم خدا کے فضل سے تنزل کے خطرات سے محفوظ رہے گی مگر افسوس ہے کہ اکثر والدین اس زریں اصول کو مد نظر نہیں رکھتے جس کی وجہ سے کئی بچے ماں باپ سے بہتر ہونا تو در کنار ایسی حالت میں پرورش پاتے ہیں کہ گویا ایک زندہ انسان کے گھر میں مردہ بچہ پیدا ہو گیا ہے۔ایسے ماں باپ بچوں کے کھانے پینے اور لباس وغیرہ کا تو خیال رکھتے ہیں اور کسی حد تک ان کی تعلیم کا بھی خیال رکھتے ہیں کیونکہ وہ ان کی اقتصادی ترقی کا ذریعہ بنتی ہے مگر ان کی تربیت کی طرف سے عموماً ایسی غفلت برتتے ہیں کہ گویا یہ کوئی قابل توجہ چیز ہی نہیں حالانکہ تربیت کا سوال تعلیم کی نسبت بہت زیادہ ضروری اور تربیت کا مقام تعلیم کی نسبت بہت زیادہ بلند ہے۔ایک کم تعلیم یافتہ مگر اچھے اخلاق کا انسان جس میں محنت اور صداقت اور دیانت اور قربانی اور خوش خلقی کے اوصاف پائے جائیں اس اعلی تعلیم یافتہ انسان سے یقینا بہتر ہے جس کے سر پر گدھے کی طرح علم کا بوجھ تو لدا ہوا ہے مگر وہ اعلیٰ اخلاق سے عاری ہے اور قرآن شریف نے جو لَا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ : بنی اسرائیل: 32 1