چالیس جواہر پارے — Page 149
149 تدبیروں کی تاروں کے متعلق یقین رکھا جائے کہ وہ خدا کے ہاتھ میں ہیں اور یہ کہ بہر حال ہو گا وہی جو خدا کی مشیت ہے اور اگر غور کیا جائے تو یہ دونوں چیزیں متضاد نہیں ہیں کیونکہ جب ہر تقدیر خیر و شر اور تمام خواص الاشیاء اور ہر قسم کے اسباب اور مسببات کا خالق و مالک خدا ہی ہے تو اس میں کیا شک ہے کہ ظاہری تدبیروں کے باوجود ہمارے اعمال کے نتائج کی آخری تاریں خدا کے ہاتھ میں سمجھی جائیں گی۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ ایک بدوی رئیس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ملاقات کے شوق میں اپنی اونٹنی مسجد نبوی کے دروازہ کے باہر کھلی چھوڑ آیا۔جب وہ آپ سے مل کر واپس گیا تو اس کی اونٹنی بھاگ کر غائب ہو چکی تھی۔وہ گھبرایا ہوا مسجد میں واپس آیا اور آنحضرت صلی کریم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے خدا کے تو کل پر اپنی اونٹنی کو چھوڑا تھا مگر جب آپ سے مل کر باہر گیا ہوں تو وہ بھاگ چکی تھی۔آپ نے فرمایا۔اِعْقَلُهَا وَتومحل : " یعنی ایک طرف اپنی اونٹنی کا گھٹنا باند ھو اور دوسری طرف خدا پر توکل کرو“ اور یہی وہ لطیف الفاظ ہیں جن پر مولانا رومی علیہ رحمتہ نے یہ مشہور مصرعہ نظم کیا ہے کہ 1 بر تو کل زانوی اشتر ببند 2 خلاصہ یہ کہ حدیث زیر نظر میں آنحضرت صلی یم نے ایک طرف اولاد کے باوقار گزارے کے لئے والدین کو دور بینی اور دور اندیشی کی تعلیم دی ہے کہ جہاں تک تمہارے : في ظلال القرآن ، جلد 5 ، زیر آیت الم غلبت الروم فى ادنى الارض 2 : مثنوی و مولوی و معنوی (مولانا رومی) باب ” باز ترجیح نهادن شیر جهد را بر تو کل و تسلیم “جلد 1 صفحہ 132