چالیس جواہر پارے — Page 134
134 33 دوسری قوموں کے معزز لوگوں کا احترام کرو عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ (سنن ابن ماجه کتاب الادب باب اذا اتاکم کریم قوم فاکر موه) ترجمہ: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم فرمایا کرتے تھے کہ جب تمہارے پاس کسی قوم کا بڑا آدمی آئے تو اس کا واجبی احترام کیا کرو۔تشریح: ملکوں اور قوموں اور پارٹیوں کے تعلقات کو استوار رکھنے کا بہترین ذریعہ ایک دوسرے کے لیڈروں کا اکرام و احترام ہے۔ہمارے آقا صلی الیکم نے اس بارے میں بھی مسلمانوں کو سخت تاکید فرمائی ہے۔چنانچہ یہ حدیث جو اسی قسم کی دوسری بہت سی حدیثوں میں سے بطور نمونہ لی گئی ہے اس سنہری ارشاد کی حامل ہے۔اختلافات جس طرح افراد کے درمیان ہو جاتے ہیں اسی طرح قوموں اور ملکوں کے درمیان بھی اختلافات ہوتے رہتے ہیں مگر ان اختلافات کے زہر کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ایک دوسرے سے حسن اخلاق سے پیش آنا ہے اور اس تعلق میں دوسری قوموں اور پارٹیوں کے لیڈروں کا واجبی احترام کرنا بڑا بھاری