چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 133 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 133

133 ابو سفیان کی زبان سے اس کے سوا کوئی الفاظ نہ نکل سکے کہ وہ بت پرستی سے روکتا ہے اور حسن اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اور اس نے آج تک ہمارے ساتھ کوئی بد عہدی نہیں کی۔آپ کے یہ اخلاق فاضلہ صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں تھے بلکہ آپ نے بے زبان جانوروں تک کو بھی اپنی شفقت میں شامل فرمایا چنانچہ آپ اپنے صحابہ کو ہمیشہ تاکید فرماتے تھے کہ فِي كُل كبد رطبة أجره یعنی یا درکھو کہ ہر جاندار چیز پر رحم کرنا ثواب کا موجب ہے۔“ ایک موقع پر ایک اونٹ جس پر زیادہ بوجھ لاد دیا گیا تھا تکلیف سے کراہ رہا تھا۔آپ اسے دیکھ کر بے قرار ہو گئے اور اس کے قریب جا کر اس کے سر پر محبت کے ساتھ ہاتھ پھیرا اور اس کے مالک سے کہا بے زبان جانور تمہارے ظلم کی شکایت کر رہا ہے۔اس پر رحم کرو تا تم پر بھی آسمان پر رحم کیا جائے۔یہ وہ اخلاق ہیں جو ہمارے آقا نے ہمیں سکھائے مگر افسوس ہے کہ آج کل بہت سے مسلمان ان اخلاق کو فراموش کر چکے ہیں۔1 : بخاری ، کتاب بدء الوحي باب كيف كان بدء الوحى 2 : بخاری کتاب المساقاة باب فضل سقى الماء 3 : ابوداؤد کتاب الجھاد باب مایو مر به من القيام على الدوائب و البهائم