چالیس جواہر پارے — Page 110
110 25 دھوکا باز انسان سچا مسلمان نہیں سمجھا جا سکتا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔قَالَ۔۔۔مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ (صحیح مسلم کتاب الایـ قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فليس منا) ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جو شخص تجارت یا دوسرے لین دین میں دھوکا بازی سے کام لیتا ہے اور ظاہر و باطن ایک جیسا نہیں رکھتا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔تشریح: یہ ارشاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا جب کہ آپ نے ایک غلہ فروش کے ڈھیر کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھا کہ وہ اندر سے گیلا تھا مگر باہر سے خشک غلہ کی نہ ڈال کر اس نقص کو چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔اس وقت آپ کا چہرہ غصہ سے متغیر ہو گیا اور آپ نے غلہ فروش کو انتہائی ناراضگی کے ساتھ فرمایا کہ یہ دھوکا بازی اسلام میں جائز نہیں اور جو مسلمان دھوکا کرتا ہے اور خراب مال کو اچھا مال ظاہر کر کے بیچنا چاہتا ہے اس کا