بیاضِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 396 of 432

بیاضِ نورالدّین — Page 396

مجربات غوره وین۔رصه دوم سکے ، شدت پیاس میں پانی نہ پینا شروع نہیوں میں استعمال جو شاندہ اور ترک اغذیہ سے لاحق ہوتا ہے۔فائدہ۔صدارت کا دل میں اولا متعلق ہونا یا بالذات مہلک ہے۔اسیطرح دق الاعراور حجازی اور حبشی اور قوی تیوں کے بعد بلکہ جگر اور سر سے متعلق بھی مہلک ہے۔فائدہ۔تپ باریک اور لازم ایک حال پر ہفتہ تک دق ہے اور دو ہفتہ تک مستحکم ہے بلکہ تین روز سے زیادہ بغیر پیاس اور قلق) اور گھیرا اور رات کو سونے میں نبض کا اختلاف اور غذا کے بعد حرارت کا زیادہ ہو جانا - رق ہے۔فائدہ۔بدن کی رطوبتیں دو ختم ہیں۔اول فصلے مثلاً بال میل - آکسو - سینڈ کچھ قومی - پسینہ، پیشاب پاخانہ حیض بلکہ دو وقعد اور منی بھی، دوم وہ جو جزو بدن ہونیکے قابل ہوں، اور یہ چالہ قسم ہیں۔اول عروق شعریہ کے سری کی سلطوں کا خلاصہ یعنی عروق شعریہ کے سروں پہ جور طوبت ہوتی ہے اس کا اخلاص اور یہ رطوبتیں ، مناد بعضونت جوش خامی پا کر امراض کا سبب ہوتے ہیں۔ان کے نقصان کو اعطیت تو کہتے ہیں۔دوسری رگوں سے خارج نکنیم کی مانند اور اس کا نقصان ذبول ہے تیری عضو ہونے کے قریب اور اس کے نقصان کو فارلیمیوس کہتے ہیں۔یا بار سیحوس۔پھر بھی استعار کے جوڑنے کا باعث ہے۔اسکا نام تفتت ہے۔علامات درجہ اول۔اس میں تین چار کے دن کے حرارت زیادہ ہوتی ہے۔بھونا چہرہ مبار اکور ہوتا ہے اور پچھلی رات کو چہرہ اور گلے پر پستہ آتا ہے ، اور عورتوں میں خون حیض معا بند ہو جاتا ہے۔پہلے درجہ میں قبض کا پارہ یک اور حلب ہو جاتا۔اور متواتر اور صنعت ہونا۔پیشاب ابتدائے میں مانتی ہونا۔گرمی کی نہ باد ہی اس سے سوجین کے۔فائدہ یہ رونگٹے کھڑے ہونا۔ہاتھ پاؤں ٹوٹا۔اعضا کا بھاری ہونا۔اور اطراف کی سردی، اختلات نبض سب پتیوں میں غذا کے بعد لازم ہے کیسی۔۔۔دق میں تپ کا بھڑ کن بغیر نبض کے رہتے کے ہوتا۔فائدہ نہ پایشاب کی چکاہٹ دق کی علامت کہتے ہیں۔حالانکہ گرہ کی امراض میں بھی چکنا ہٹ ہوتی ہے۔پس رات کا قادرود سر دیگہ پر صبح کو دیکھا جاوے۔میں شق کی صلابت صفرا اور تواتر کے ساتھ اور پیشاب کا گاڑھا اور بہت رسو بول والا ہونا۔درجہ سوم میں آنکھوں کا گڑھ جانا کیپیٹوں کا بیٹھ جاتا اور آنکھوں کا میل۔فائدہ۔ایسا دق جو مرکب ہو کسی خارج از عروق خلط کیسا تھ اس میں رو نگئے اور سردی ہو گی۔اور خلط داخلی کے ساتھ ہو تو۔اس میں بعض دبی ہوئی ہوگی۔اور یہ ابتدائے نوبت ہی میں پتہ لگ بہاتا ہے۔اور ہاتھ اور پاؤں پر منتج محدی اور کبری میں اور تیسرے دن تپ کی شدت کرنا۔اور چہرہ کی زردی اور بدن کی خشکی اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی تیپ بھی کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔فائدہ۔اس تپ میں مریض کو بھو نھار کھنے سے ہلاکت ہوتی ہے۔علاج - سادہ کور کا جینساندھ دیا۔پھر گلو کے خیساندہ کے ساتھ رب السوس اضا نہ کر دی۔پھر شیرہ تم کو