بیاضِ نورالدّین — Page 162
| حصہ اول محیر بات نونه ووین لیپ کریں۔چرائتہ بلادي - روشن مہنگی کھلا دیں۔اور پیٹ پر شمار کریں۔غذا به یغ تیتر، کیک، بٹیر، چڑیا۔پتو، نخود آب ، کتاب چنینی رانی اور کیا پودر بینہ۔تے کرنا۔اطریفل صغیر امر به ہلیلہ ، مصطگی ، آب آبان تاب جوشاندہ بادیان اور وائیسوں روغن را رطوبت میں مصطگی لگانا سکندر جو بوری میں آوے۔اس کے نیچے جو آتا رہ جاوے۔مضماد کرنا اتر پھل، امر به حلقہ اور مصطگی معجون لو ہے چون۔غان اس مرغی شهد ، البقولات دودھ والی استیار تحمیلی سے پر ہیز کر یں۔) شیر گادا روغن بادام، مشیر بن ، بیر کا دودھ پلانا۔روین گار سکه امام شیر ماده فرا تر بود اما این یلیس میں عناب بداند و اسپغول، عسل، حمام، آب نیم گرم بعد منم، کشتہ فولاد، محصن پستی دیں۔عان : پالک اکرو اجر کے سنو، مارالشیعر چھوٹی مچھلی ، سیب آثار در علامات ، سیلان کتاب دن میں اور نیند نہیں اور نیند کی زیادتی۔نیشیان اور تے جس میں ور حارر طب کچھ اندر سے لکھے۔کھانا پیٹ میں بو دانہ ہو جانا جس کی بود با خانہ سے معلوم ہوتی ہے۔سوئے اور سیکھییں سے نے کرائیں۔پھر مربہ بلیلہ یا مشک اور منتظگی ہمراہ گلاب و عرق از فردیں۔تغيي۔علاج اور شربت انار اور شربت بزوری مناسب ہے۔مارا کشیر همراه روغن بادام۔گرمی میں دورہ سرو، اور سردی میں گرم مارا طبین در چھایا روغ گارا بار در طب میں -: فلاسفہ کرتی، مشک، مصطگی بعرق از خرہ اور ریاضت کرانا۔بار دیا میں میں مارا شیر ہمراہ شہر و فلفل، فلفین اور ز تجلیل بچانا مشک اور مصطگی لگاتا۔مال :- سرخ، چکور، ہینر ، کباب، ولیه گندم با خود آب - مادے کسی کسی جگہ سے آتے ہیں۔بلغم سر سے۔سور الحال سے، صفرا جگہ سے اور زہرہ ہے فائدہ اور خون جگر سے۔میں یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا مادہ جسم میں جذب ہوا ہے، یا علیحدہ ہے۔پھر بہت اندر دھسا ہوا ہے مادی یا قریب ہے، لزوجت والا ہے۔بابلا لزوجت ہے۔ان رہ طوبات الربع الخلاط اور نا کردہ عورتوں کے علاوہ ہے۔یا انہیں میں سے ہے۔مقدار کیا ہے۔اس کے نکالنے کی کیا راہ ہے۔اس کے اندر ہونے کے کیا وجوہ ہیں کس حصہ میں جذب ہے متحرک ہے یا ساکت ہے کسی طرف آسانی سے حرکت کر دیگا یا نکلی گا۔قے سے یا اسہال سے یا ضمار سے قوت اور عمر اور مزاج مرابض کا لحاظ کریں۔اور موالے کو دیکھ تھیں۔اگر انتڑیوں میں بیماری ہے تو مسہل نہ دیں گلے یا کھیوڑے ہیں مرتی ہے تو تے نہ کرائیں وغیرہ) فصل اور کسب اور عادت کا لحاظ کریں۔تھے یا مسہل کی عادت یا بہ نا سنت ہے کہ نہیں۔