بیاضِ نورالدّین — Page 369
مجربات موزه دین هفته دوم نانک کا بر در و پشت اور ناک کی خارش پھونکا۔سوتے میں رونا۔جلد کی جلی ، انگڑائی اور جاتی ، تنوع ، بے کلی۔جدیدی او حصبہ کی علامات ہیں۔علامات تمی اعفنی :۔تنفس اور نبض کا جلدی سے منقیض ہو جانا تپ سے پہلے لکان۔اعضا رشکی، بے خوابی چه ضیق النفس ، رگوں کی کھچاوٹ درد سر واقع ہونا ہے۔فائدہ :۔جب یہ تپ ورہ لمبا ہو جائے۔تو کمزوری اور رنگ کی زردی پیدا ہوتی ہے۔کبھی کبھی ایسے آپ میں جی متلانا۔منہ سے تھوک کا آنا۔بول اور بہانہ کا بد بودانہ ہوتا۔سرکا بو تھیل ہونا بھی دکھائی دیتا ہے۔اگر ایسے جب نوبتی ہوں تو انکی یہ نشانی ہے کہ آپ شروع ہونے کے وقت سے نہی رب جاتی ہے۔اور پہلی باری پر پسینہ نہیں آتا۔زبان میلی اور اور دسر اور پیاس غالب ہوتی ہے۔مولوی نورالدین صاحب مرحوم کی خاص تجربہ شدہ علامتیں جن سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ تپ عضی ہے۔جائی انگر وائی۔درو ہے۔ا جمیات عفنیہ کا باہمی تفرقہ جو تپ صفرا کی عفونت سے ہو ، وہ ناغہ دے کر نظیر کرتا ہے یعنی آپ تو لازم ہے۔مگر ایک دن اس کے عواد من کم ہوتے اور ایک دن زیادہ ، ہاں اگر صفرادی تپ محرقہ ہو تو وہ یکساں رہتا ہے۔اگر یہ تیپ صفرا سے ہو تو اس کو غب کہتے ہیں اگر صفر کے ساتھ کچھ بلغم بھی ہو تو عیب غیر خالص نام رکھتے ہیں۔جو تب خون کی عفونت سے ہو وہ ہمیشہ لازمی ہوتا ہے۔نوبتی نہیں ہوتا۔بونت بینم کی عفونت سے ہوا۔وہ ہر روز ہوتا ہے۔حرارت اسکی نرم ہوتی ہے ایسے مریض کا تم معدہ خراب ہوتا ہے۔بھولی نہیں لگتی۔جگر اور غنی ہوتی ہے، منہ پھیکا، زبان سفید نیض کسی قدر چھوڑی۔پیشاب گاڑھا اور میلا ہوتا ہے سیمی نپ:۔بھولازمی ہوتا ہے وہ وق کی ماننہ ہوتا ہے اس کو متفقہ کہتے ہیں۔سود او می تپ:۔ہمیشہ ربع ہو گا۔فائل :- عام نیوں کا علاج اگر با قاعدہ نہ مجھے حضو صادر می تینوں کے علاج میں اگر سستی کی جاوے تو آخر میں کا ضرور دق ہو جاتا ہے۔فائل کا : - بعض تپ مدفون ہوتے ہیں۔یعنے ظاہر کوئی علامت نہیں ہوتی اور اندر تیپ ہوتا ہے۔ایسے تپ بوڑھے لوگوں میں ہوتے ہیں۔کیونکہ لسبب مادہ کے غلیظ ہونے کے وہ باہر محسوس نہیں ہوتے ایسے نیوں کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ بظاہر تپ نہ ہو، مگر زبان میلے رہے۔نامل کا : جب تپ لیا ہو جاوے تو اسکا سبب کہیں اندرونی اعضاء کی غلظت ہے۔پس معدہ جگر اور طحال وغیرہ کو دیکھ طور