بیاضِ نورالدّین — Page 302
مجربات نور دین حصہ دوم چاکسو ۲ مندر، همراه نفوع سندن سفید کاف کے نیچے جو کہ لگانا خیار برای ماشه گل ارمنی ۳ ما نشه ، ورشا در یک رتی کھلانا۔اقسام خون: عنائی لینے اس طرح کوشت دھویا جائے۔اس پانی کا جو رنگ ہوتا ہے، بحرانی، سور مینم بعروق شعری کا خون ، مینا و معدہ اور کبد سے کلیہ اور مثانہ سے پیپ دار خون زخم کا خون ، چکنائی وار خون پتھری کے ابتدا ر میں سیاہ پیشاب آتا ہے یہ بھی خون کی قسم ہے میں خون میں چکنا بہت ہو۔اسمیں افیون بہت مفید ہے۔باب مستم امراض خصتین ورم انیشین : مز به مفاصل نقرس کیتی پریویز کی غلطی ، بستری یاری کا لکن ، سوزاک سشرت شہوت۔علاج :- چت لیٹا، خصیہ کے نیچے تکیہ رکھا ، پوست کی گور، مسہل نمکیں۔ٹارٹارا میشک پا یونسیا مس کا نطول - قوی لوگوں میں حصہ بھی کرتے ہیں۔جونک لگانا۔بعض من۔۔۔کرتے ہیں۔موئے نہ ہار پر سنگھی لگانا۔لعاب پیدا نہ بشربت نیلوفر بیدانه دنیا آمد رجو کشی ، صندل، باب مکور ضماد کرنا۔پھر بابونہ کا اضافہ کرنا۔غذار ماء الشعیر ورم سرد پر انیستاس اور کور کا کرنا۔زردہ بیضہ اور طلبہ کا لیپ کرنا مقتل - اکیل ہر مل ، درونی گلی۔بابونه - بیدانجیر رو کن دستورہ لگانا۔لیپ در رو خفته به حرارت هر دوت ، ورم ، ضرب، ترک جماع ، ابواسیر ، قبض - علاج :- ضمادوں میں اور طلاؤں میں قدرے افیون اور کا فور امیزاد کریں۔پوست کی مکور حقہ خصتین کا بڑھ جانا۔خون پانی آتشک رسل دقیق - استسقاء علاج :- منار بلا ڈونا چکی کے پتھروں کا بورا۔اور سال کا برادہ ہمراہ خاکستر پیک بز - اجوائن لگانا۔باندھنا۔پانی بڑھ جاتے اور گوشت بڑھ جانے میں پیر نا اور کاٹنا اور بچوں میں پانی اور سرکہ رکھا۔سل اور وق میں مقویات دینا۔جیسے روشن ماہی۔ارتفاع خفیہ یا فتین کا اوپر چڑھ جانا۔دونوں حفیر اگر اپنی تھیلیوں میں نہیں اترتے تو اس کو عنا کہتے ہیں اگر ایک اترے اور ایک نہ اترے تو اولاد ہو سکتی ہے۔سلاح جو آبزن، چاندی کی نلکی سے پھونکنا۔۔۔۔فروع خصیہ دذکر علاج۔حضر و مسہل۔پھر نیم کے پانی سے دھونا، اور کیل مرد سنگ، توتیا، شراب ، صبر لگانا۔جگہ علاج - تنقیہ اصفرار، سودا کا کریں۔عرق شاہترہ پلائیں۔گرم پانی سے دھو کر سفیدہ بیضہ مرغ ، فیتیل، کریب تو تیا ئے سبز ، پوست سرس کا مفاد کریں۔صبر اور صندلین کا ضماد کریں۔یائے ہنزا درم قضیب :۔عرق شاہترہ بشربت عناب دیں۔درو قضیب : - ماء الشعیر دیں اور ٹکور کریں۔فتق یہ تعریف - معدہ یا امنا ریا پیٹ کا چمڑہ اپنے مقام سے اتر کر حفیہ کی تحصیلی میں آجاوے ، یا معدہ کی جلد یاران میں کے چھڑہ میں آجانا۔