بیاضِ نورالدّین — Page 14
طبی سوانح عمری ۱۴ اس زمانہ میں روپیہ لے جایا کر تے تھے ہمارے مکان میں اترے۔انہوں نے ترجمہ قرآن کی طرف یا یہ کہنا چاہیے کہ اس گراں بہا ہو میرات کی کمان کی طرف مجھے متوجہ کیا جس کے باعث ہیں اس بڑھا ہے میں نہایت نشا رہا تہ زندگی بسر کرتا ہوں وذالك تضل الله علیناد على الناس و اكثر الناس لا يعكسون :- یہ تو میں کلکتہ کے ناہید سے فائدہ ہوا پھر ایک بیٹی سے تاجر آیا جس نے ہم کو تقویتہ الایمان اور و مشارق الانوار کی ستعاریش کی کہ میں اسے پڑھوں اس کیو زبان مجھے نہایت پست تھی اور میری ڈال لگی کام تھی اور میری دل لگی کا موجب اسلئے میں نے اول دونوں تراجم کو خوب پڑھا اور تھوڑے دنوں کے بعد باہر رہ گیا عربی توپڑھنا ہی تھا حکیم الہ دین صاحب لاہوری مقیم گھٹی بازار میرے استاد مقرر ہوئے اور وہ مجھے موجہ پڑھاتے تھے عربی عبارت نہایت ہی صحیح پڑھانا اور تلفظ میں بڑی ہی اختیاط کرنا یہ ان کو ہمیشہ بل انظر تھا لیکن وہاں چند روزہ اقامت نے اس دلچسپ علم کے دریس سے محروم کر دیا اور میں بھیرہ آ گیا۔اور یہاں سے ایک خاص تقریب کے باعث مجھے راولپنڈی جانا پڑا اور ناریل سکول کی تعلیم میرے ذمہ لگائی۔یہ کارڈ کا ذکر ہے میری عمر اس وقت ، برس کے قریب قریب ہو چکی تھی منشی قاسم صاحب کی تعلیم کی قدر کس وقت ہوئی کیونکہ ہوچکی اس ناریل اسکول میں نشر ظہوری اور ابوالفضل کے پڑھنے میں مدرسہ میں طلبہ کا سرتاج رکھا مولومی سکندر علی نام ہیڈ ماسٹر مجھے پر اتنے خوش ہوئے کہ میری حاضری کو بھی معاف کر دیا اس غیر حاضری میں مجھے یہ فائدہ ہوا کہ حساب اور جغرافیہ کے پڑھنے میں میں نے ایک آدمی کو ملازم رکھ لیا اور بجائے اس ذہاب و ایاب کے بعد مدرسہ کے جاتے میں ہوتا تھا میرا وقت اقلیدس اور حساب اور جغرافیہ میں مفت بیچے جاتا تھا کہ دیکہ کاری اسکول ہمارے مکان سے دور تین یہ به موزه مرکب کے لئے میں نے شیخ غلام بنی صاحب نام میڈماسٹر یوں بینائی کو ٹھیکہ دار بنا یا امور رہی میں نے سہے سیکھنی جایی اس کا سیکھنا تھا کہ سارے مبادی الاحساب امر جہار حصہ کے پڑھانے میں آخریم شیخ صاحب کے استاد کے لئے منشی نبا الچند ساکن ضلع شیلا ہو ر کو منتخب کیا۔انہوں نے مجھے نہایت محبت سے پہلے مقالہ کی چند شکلیں پڑھائیں پر ہمیں خدا کے فضل سے سارے تعلیمی حصہ کو خود بخودپڑھنے کا تہم پیدا ہو گیا اور میں ایک امتحان میں جس کو تحصیلی امتحان بھی سکتے تھے ایسا کا میاب ہوا کہ پنڈ دادنخان کا ہیڈ ماسٹر ہو گیا۔منشی خانم صاحب کی تعلیم اس وقت مجھے بڑی مفید ہوئی کیونکہ پنڈ دادنخان میں فارسی مدرس میری مخالفت کے لئے اپنے شاگردوں کو اتنی نا بھیجا کرتے تھے اور یہ فارسی کی معمولی باتوں کو نہایت عظمت کی نگاہ سے دیکھ کر مجھ سے پوچھتے تھے اور میں خوش ہونا تھا عربی کی تعلیم میرے بھائی صاحب نے میری ہیڈ ماسٹری کے وقت پھر شروع کرادی اور میں الفیہ اور منطق کے رسائل اور شرح عقاید کہ ہاں سیمی پڑھ چکا تھا لیکن آخر چار برس کے بعد وہ نوکری کا تعلق خدا کے محض فضل سے ٹوٹا اور میرے والد صاحب نے مجھے تعلیم عربی کی تکمیل کے لئے تاکید فرمائی۔مولوی احمد الدین صاحب رحمتہ اللہ مومشہور لگے والے کار قاضی صاحب تھے میرے استاد ہوئے اور وہ میرے بھائیوں کے بھی استاد تھے مگر ان کو جامع مسجد کے بنانے کی ایسی فکر لگی تھی کہ ایک جگہ ٹھہرنا ان کے لئے محال تھا۔ایک سال میں ان کے ہمراہ سفر اور حضر میں رہا۔اور عربی زبان کی معمولی درسی کتابیں نہایت تکلیف سے پڑھیں اور نگ آکر بھائی مولوی سلطان احمد صاحب سے کہا تو وہ مجھے لاہور نہیں لائے اور حکیم مخموش اور چند اور اساتذہ کہ کے سپرد کر کے بھیرہ تشریف لے گئے یہاں اب ہمارا مطبع کا تعلق کوئی اندھا بھائی صاحب کے جاتے ہی نہیں ایک شہر وہ کہ رگئے ونڈ