بیاضِ نورالدّین — Page 13
طبی سوانحصری رالله لرَّحمن الرّحِ حضرت حکیم الامتہ کی اجمالی خود نوشت جلتی سو معمری کے قریب یا کہ یا ستہ کے قریب میرا تولد کا زمانہ ہے ابتداء میں میں نے اپنی ماں کی گود میں قرآن پڑھا ہے اور اسی کے پاس پنجابی زبان میں فقہ کی بہت سی کتابیں پڑھیں اور کہیں کس قدر حصہ قرآن کا والد صاحب سے پڑھا مگر یہ قدیم الفرصت تھے پھر مجھے سبب ان تعلقات کے جو تم کو لاہور میں تھے اور یہ تھے کہ ہمارا ایک مطبع نادری نام کا بلی ل کی تھری میں تھا مجھے شدھ کے قریب لامور میں آنا پڑا یہاں آکر مجھے خناق کا مرض میجا اور عظیم غلام دستگیر۔لاہوری ساکن سید مٹھے جن کا معنی میرے بھائیوں سے بہت تھا اور میرے بھائی طب میں ان کے بنا کر بھی تھے میرا علاج کرتے تھے۔اسوقت اگر چہ طبی تعلیم کا محرک میرے دل میں پیدا ہوا مگر میرے بھائی صاحب نے مجھے نشی محمد قاسم کشمیری کے پاس منظر فارسی کی تکمیل کے لئے سپر د کیا۔انہوں نے مجھ پر بہت محنت کی۔اور بڑی مہربانی سے رزم اور بیرم اور بھاری مضامین مجھ مجھے لکھ دیتے اور مجھ سے لکھواتے اور مرزا امام دیہ روتی کے سپرو اس لئے کیا۔کہ میں تو تخطی سیکھوں۔مگر مجھ کو فارسی زبان سے کوئی دلچسپی پیدا نہ ہوئی اور میں افسوس کرتا ہوں کہ مجھے ایک بڑا وقت ایسی زبان کے سیکھنے میں خرچ کرنا پڑا جس کے ساتھ مجھے بلحاظ دین اور ضرورت سلطنت کچھ بھی نیچی نہ تھی مگر اس میں ہمارے بھائیوں کا بھی قصور نہیں معلوم ہوتا کیونکہ اس وقت کی موجودہ حالت کوئی جدید تحریک کا باعث بن سی نہیں سکتی تھی خوشخطی کے لیے الف - ب درج- و- مر کا لکھنا مہینوں کا سفر تھا اور چونکہ میرے دماغ کو ہاتھ سے کسب کرنے کی بناوٹ نہیں بخشی گئی تھی میں اس فن سے بھی کو را کا کورا رہا۔رسائل طغرا کے عجیب در عجیب زیکات اور امام ویردی صاحب کے بینظر قطعات اس عمر میں دلچسپی کا باعث نہ تھے اور مرزا امام ویر وی صاحب مہر کسی کے کسب میں بھی کمال رکھتے تھے مگر مجھے اس سے بھی محروم رہنا پڑا یہ میرے دونوں استناد شیعہ مذہب کے پابند تھے مگر مباحثات ان دونوں کا تعلق کم تھا۔مجھے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ شیعہ مذاہب سے میں آگاہ ہو گیا۔پس اس محنت کا اگر کوئی نتیجہ سمجھا جائے تو صرف یہ تھا کہ میرے معلومات میں شیعہ مذہب کے جاننے کی غرقی ہوئی اور ا سوقت حکیم اللہ دین لاہوری رحمت اللہ سے نیاز حاصل ہوا لگرن رہی اور خوشخطی کے شغل نے موقع نہ دیا۔کہ کوئی استفادہ کرتا۔نہ حد میں مجھے وطن واپس آنا پڑا اور میاں حاجی شرف الدین فارسی کے استاد مقرر کے گئے مگر دلچسپی کے نہ ہونے نے یہ نامدہ پونچایا۔کہ مجھے سبق یاد کرنے کی محنت سے بچا لیا اور میرے قومی خوب مقبوضہ رہے غالباً اس وقت اگر کوئی محنت کا علم پڑھنا۔تو میرے دماغ کو تکلیف ہوتی اس لئے اس کا اگر بھی شکریہ ہی کرتا ہوں۔تھوڑے عرصہ کے بعد میرے بھائی سلطان احمد صاحب بھیرہ میں تشریف لائے اور انہوں نے باضابطہ عربی کی تعلیم دینی شروع کی خدا ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے صرف میں بتاؤں اور تہ تلیلات کا گورکھ وصدا میرے سامنے نہ رکھا بہت کشادہ طور پر تعلیم شروع کی ہو تیرے لئے مفید اور دلچسپ ثابت ہوئی میں نے بہت سی جلد یہ رسائل پڑھ نئے اور جناب انہی کے انعامات میں سے یہ بات تھی کہ ایک شخص محمد امین کلکتہ کے تاجر کتب جو مجاہدین کے پاس