بنیادی مسائل کے جوابات — Page 600
والدہ کی وفات کے بعد انہیں غسل دینا سوال: قادیان سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ میری والدہ نے وفات سے قبل مجھے کہا تھا کہ ان کی وفات کے بعد میں انہیں غسل دوں۔لیکن میری والدہ کی وفات کرونا سے ہوئی اس لئے انہیں غسل نہیں دیا جا سکا۔جس کی وجہ سے مجھے بہت تکلیف ہے۔اس بارہ میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا میں نے درست کیا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 19 ستمبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل رہنمائی فرمائی۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اصل بات یہ ہے کہ عام حالات میں عورت کی میت کو عورتیں اور مرد کی میت کو مرد ہی غسل دیتے ہیں۔سوائے میاں بیوی کے کہ وہ ایک دوسرے کی میت کو غسل دے سکتے ہیں۔اس لئے آپ نے بہت اچھا کیا کہ اپنی والدہ کی میت کو غسل نہیں دیا۔اور ویسے بھی جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ان کی وفات کرونا وائرس کی وجہ سے ہوئی تھی اس لئے طبی طور پر بھی آپ کو انہیں غسل دینے کی اجازت نہیں ملنی تھی۔اس لئے آپ کو اس وجہ سے کسی قسم کی پریشانی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی والدہ کے ساتھ رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، آپ سب لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی نیکیوں اور دعاؤں کا وارث بنائے۔آمین (قسط نمبر 44، الفضل انٹر نیشنل 2 دسمبر 2022ء صفحہ 10) 600