بنیادی مسائل کے جوابات — Page 362
صدقات سوال: صدقات کی رقم کو مساجد کی تعمیر میں خرچ کرنے کے بارہ میں فقہی مسائل میں دیئے جانے والے ایک جواب کی درستی کرواتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب بنام محترم ناظم صاحب دار الافتاء مؤرخہ یکم جولائی 2020ء میں ارشاد فرمایا: جواب: صدقات کی رقم کو مساجد کی تعمیر میں خرچ کرنے کے بارہ میں آپ کی طرف سے فقہی مسائل میں دیا جانے والا جواب مجھے کسی نے بھیجوایا ہے، جس میں آپ نے سورۃ التوبہ کی آیات نمبر 60 سے استدلال کرتے ہوئے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔صدقہ کا لفظ قرآن و حدیث میں اسلام کے ایک فرض رُکن زکوۃ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے اور زکوۃ کے علاوہ اللہ کی رضا کی خاطر غربا و مساکین کی مدد اور اعانت کے لئے دیئے جانے والے دیگر صدقات کے لئے بھی یہ لفظ آیا ہے۔اور ہر جگہ کا سیاق و سباق اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اُس جگہ استعمال ہونے والا لفظ اسلامی رُکن زکوۃ کے لئے آیا ہے یا دیگر صدقات کے لئے استعمال ہوا ہے۔سورۃ التوبہ کی مذکورہ آیت میں بیان صدقات سے مراد اموال زکوۃ ہیں۔لہذا اس آیت سے استدلال کر کے زکوۃ کے علاوہ دوسرے صدقات کی رقم کو مسجد فنڈ میں خرچ کرنے کا فتویٰ درست نہیں ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے احمدیت نے زکوۃ اور دیگر صدقات میں فرق کیا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صدقہ کے گوشت کو صرف غربا کا حق قرار دیا اور انہیں میں تقسیم کی ہدایت فرمائی۔لیکن لنگر خانہ میں اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی حالانکہ لنگر خانہ میں عام طور پر مسافروں کے قیام و طعام کا انتظام ہو تا ہے اور آپ کے استدلال کے مطابق تو پھر فِي سَبِيلِ اللہ اور ابنَ السَّبِيْلِ کے تحت ان کے لئے بھی اس قسم کے صدقہ کے گوشت کی اجازت ہونی چاہیے تھی۔في سَبِيلِ اللہ یا ابْنَ السَّبِیلِ سے اس قسم کا استدلال خاص حالات میں تو ہو سکتا ہے اور ایسی تشریح کرنا بھی خلیفہ وقت کا حق ہے۔اگر ہر شخص اس قسم کے استدلال کر کے جواز کی راہیں نکالنا شروع کر دے تو مسائل میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔362