بنیادی مسائل کے جوابات — Page 87
سوال: ایک سکول کی بچی نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے استفسار کیا کہ اسلام میں عورت کو اپنے آپ کو ڈھانپنے کا حکم ہے لیکن ہم سکارف وغیرہ لے کر سر پر پردہ کیوں کرتے ہیں ؟ لڑکیاں سکول میں لڑکوں سے دوستی کیوں نہیں کر سکتیں؟ اور کیا میں Halloween میں پری بن سکتی ہوں ؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپ نے مکتوب مورخہ 26 جنوری 2021ء میں اس سوال کے جواب میں درج ذیل ارشاد فرمایا: جواب: اسلام نے پردہ کے بارہ میں عورت اور مرد دونوں کو نہایت حکیمانہ تعلیم سے نوازا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ مومن مرد اور عور تیں دونوں اپنی نظریں نیچی رکھیں یعنی اپنی آنکھوں کو نامحرموں کو دیکھنے سے بچائیں اور اپنے ستر کی جگہ کو پردہ میں رکھیں۔اس کے بعد مومن عورتوں کو مزید تاکید فرمائی کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں اور اپنے پاؤں بھی اس طرح زمین پر نہ مارا کریں کہ جس سے ان کی زینت ظاہر ہو۔اس مختصر لیکن نہایت جامع تعلیم میں پردہ کے بارہ میں ہر قسم کی تفصیل بیان فرما دی گئی ہے کہ ایک مومن عورت اپنی آنکھ ، کان اور ستر کی جگہوں کی حفاظت کے ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھے کہ اس کا لباس نہ اتنا تنگ ہو کہ اس سے اس کے جسم کے اعضاء کی نمائش ہو اور نہ ہی اتنا ڈھیلا اور کھلا ہو کہ سینہ اور دوسری ستر کی جگہوں کی بے پردگی ہو رہی ہو۔پاؤں زمین پر نہ مارنے کے حکم میں یہ بات سمجھا دی کہ ایک مومن عورت اس طرح کی اچھل کود سے بھی اجتناب کرے جس سے اس کی جسمانی ساخت کے اتار چڑھاؤ کا اظہار ہو۔یا یہ کہ اگر پاؤں میں کوئی زیور (پازیب وغیرہ) پہنا ہوا ہے تو اس کی چھنکار سے لوگوں کی توجہ اس کی طرف ہو اور غیروں کی نظریں اس پر اٹھیں۔یا اگر پاؤں پر مہندی یا نیل پالش وغیرہ لگا کر ان کا سنگھار کیا گیا ہے تو اس کی وجہ سے غیر مردوں کی نظریں اس پر اٹھیں۔یہ سب باتیں پردہ کے احکامات کے منافی ہیں۔پس اسلام نے عورت کے لئے صرف سر پر سکارف لینا ہی کافی قرار نہیں دیا بلکہ یہ امور بیان کر کے پردہ سے متعلقہ تمام لوازمات کو بھی خوب کھول کر بیان کر دیا کہ عورت نے کس طرح اپنے 87