بنیادی مسائل کے جوابات — Page 3
سلسلہ انسانی شروع ہوا ہے۔اور اس سلسلہ کی عمر کا پورا دور سات ہزار برس تک ہے۔یہ سات ہزار خدا کے نزدیک ایسے ہیں جیسے انسانوں کے سات دن۔یادر ہے کہ قانون الہی نے مقرر کیا ہے کہ ہر ایک اُمت کے لئے سات ہزار برس کا دور ہوتا ہے۔اسی دور کی طرف اشارہ کرنے کے لئے انسانوں میں سات دن مقرر کئے گئے ہیں۔غرض بنی آدم کی عمر کا دور سات ہزار برس مقرر ہے۔اور اس میں سے ہمارے نبی الم کے عہد میں پانچ ہزار برس کے قریب گزر چکا تھا۔یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ خدا کے دنوں میں سے پانچ دن کے قریب گزر چکے تھے جیسا کہ سورۃ والعضر میں یعنی اس کے حروف میں ابجد کے لحاظ سے قرآن شریف میں اشارہ فرما دیا ہے کہ آنحضرت ام کے وقت میں جب وہ سورۃ نازل ہوئی تب آدم کے زمانہ پر اسی قدر مدت گزر چکی تھی جو سورہ موصوفہ کے عد دوں سے ظاہر ہے۔اس حساب سے انسانی نوع کی عمر میں سے اب اس زمانہ میں چھ ہزار برس گزر چکے ہیں اور ایک ہزار برس باقی ہیں۔قرآن شریف میں بلکہ اکثر پہلی کتابوں میں بھی یہ نوشتہ موجود ہے کہ وہ آخری مُرسل جو آدم کی صورت پر آئے گا اور یری کے نام سے پکارا جائے گا ضرور ہے کہ وہ چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو جیسا که آدم چھٹے دن کے آخر میں پیدا ہوا۔یہ تمام نشان ایسے ہیں کہ تدبّر کرنے والے کے لئے کافی ہیں۔اور ان سات ہزار برس کی قرآنِ شریف اور دوسری خدا کی کتابوں کے رُو سے تقسیم یہ ہے کہ پہلا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا زمانہ ہے اور دوسرا ہزار شیطان کے تسلط کا زمانہ ہے اور پھر تیسر ا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا اور چوتھا ہزار شیطان کے تسلط کا اور پھر پانچواں ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا یہی وہ ہزار ہے جس میں ہمارے سید و مولیٰ ختمی پناہ حضرت محمد لم دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے اور شیطان قید کیا گیا ہے) اور پھر چھٹا ہزار شیطان 3