بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 610 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 610

سوال : انڈونیشیا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ کیا عید الاضحیہ کے موقعہ پر وفات شدگان کے نام پر جانور کی قربانی کی جاسکتی ہے ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 08 جون 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: وفات شدگان کی طرف سے قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ تو حضور ایم کی سنت ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ حضور ایام عید الاضحیہ کے موقعہ پر ایک قربانی اپنے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے دیا کرتے تھے اور ایک قربانی اپنی امت کی طرف سے کیا کرتے تھے۔اور آپ کی امت میں بہت سے ایسے صحابہ بھی شامل تھے جو حضور ام کی حیات مبارکہ میں شہید ہو چکے تھے اور وہ بھی حضور کی طرف سے کی جانے والی اس قربانی میں شامل ہوتے تھے۔(صحیح مسلم کتاب الاضاحي مسند احمد بن حنبل، مسند الانصار مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ حَدِيثُ أبي رافع - حديث نمبر 25937) علاوہ ازیں حدیث میں یہ بھی روایت آتی ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دو جانوروں کی قربانی کرتے ہوئے دیکھا تو اس کا سبب پوچھا۔جس پر حضرت علیؓ نے فرمایا کہ حضور م نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں حضور ا کی طرف سے قربانی کیا کروں۔اس لئے میں ایک جانور آپ کی طرف سے قربان کرتا ہوں۔(سنن ابي داؤد كتاب الضحايا بَاب الْأُضْحِيَّةِ عَنْ الْمَيِّتِ) "حضرت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دل میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کا جو مقام اور مرتبہ اور آپ کے لئے جو محبت تھی، اس کا اظہار کرتے ہوئے ایک موقعہ پر آپ فرماتے ہیں: ت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات پر 42 سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر میں ہر قربانی کے موقعہ پر آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔۔۔پھر جب میں حج پر گیا تو اس وقت بھی میں نے آپ کی طرف سے قربانی کی تھی اور اب تک ہر عید کے موقعہ پر آپ کی طرف سے قربانی کرتا چلا آیا ہوں۔“ انوار العلوم جلد 25 صفحہ 468) 610