بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 607 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 607

تمہارے عمل کو نفرت سے دیکھتا ہوں۔(سورۃ الشعراء: 169) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ہدایت فرمائی کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے استہزاء ہو تا سنو تو ان ہنسی کرنے والوں کے ساتھ اس وقت نہ بیٹھو۔(سورۃ النساء: 141) گویا انسانوں سے نفرت نہیں بلکہ ان کے عمل سے بیزاری کے اظہار کی تعلیم دی گئی ہے۔۔پس اسلام کی تعلیم ہر معاملہ میں مکمل اور نہایت خوبصورت ہے۔اسلام تو سخت ترین معاند کی موت پر بھی خوش ہونے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اس کی موت پر بھی ایک سچے مومن کو اس لئے دکھ ہوتا ہے کہ کاش یہ شخص ہدایت پا جاتا۔احمدیت کے سخت ترین دشمن اور ہمارے آقا و مطاع سید نا حضرت اقدس محمد مصطفی لی ایم کی ذاتِ اطہر کے بارہ میں بد زبانی کرنے والے معاند اسلام پنڈت لیکھرام کی الہی پیشگوئیوں کے مطابق جب ہلاکت ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی ہلاکت پر بھی اس کی قوم کے لوگوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے فرمایا: ایک انسان کی جان جانے سے تو ہم دردمند ہیں اور خدا کی ایک پیشگوئی پوری ہونے سے ہم خوش بھی ہیں۔کیوں خوش ہیں ؟ صرف قوموں کی بھلائی کے لئے۔کاش وہ سوچیں اور سمجھیں کہ اس اعلیٰ درجہ کی صفائی کے ساتھ کئی برس پہلے خبر دینا یہ انسان کا کام نہیں ہے۔ہمارے دل کی اس وقت عجیب حالت ہے۔درد بھی ہے اور خوشی بھی۔درد اس لئے کہ اگر لیکھرام رجوع کرتا زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرتا کہ وہ بد زبانیوں سے باز آجاتا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس کے لئے دعا کرتا۔اور میں امید رکھتا تھا کہ اگر وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تب بھی زندہ ہو جاتا۔“ (سراج منیر ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 28) باقی جہاں تک اسلام کی مخالفت پر مرنے والے کسی شخص کے لئے دعا کرنے کی بات ہے تو اسلام نے صرف مشرک جو خدا تعالیٰ سے کھلی کھلی دشمنی کا اظہار کرے، اس کے لئے دعائے مغفرت کرنے سے منع فرمایا ہے باقی کسی کے لئے دعا کرنے سے نہیں روکا۔(سورۃ التوبۃ:114) (قسط نمبر 29، الفضل انٹر نیشنل 25 فروری 2022ء صفحہ 10) 607