بنیادی مسائل کے جوابات — Page 588
نماز فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیئے سوال: پاکستان سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ نماز فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان کتنا وقفہ ہوتا ہے؟ نیز یہ کہ صحیح بخاری کی ایک حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جتنا وقت سورۃ البقرۃ کی تلاوت میں لگتا ہے اتنا وقت اذان اور اقامت کے درمیان ہونا چاہیئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 دسمبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: میرے علم میں تو صحیح بخاری کی کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جس میں یہ ذکر ہو کہ نماز فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ ہونا چاہیے جتنا وقت سورۃ البقرۃ کی تلاوت کرنے میں لگتا ہے۔آپ نے بخاری کی جس حدیث کا ذکر کیا ہے وہ مجھے پہلے بھجوائیں پھر اس بارہ میں کوئی وضاحت کی جاسکتی ہے۔باقی ہم یہاں مسجد مبارک میں طلوع صبح صادق ( اذان فجر ) سے نماز تک موسم کے اعتبار سے مختلف وقتوں میں 25 سے 40 منٹ تک کا وقفہ رکھتے ہیں۔اور فجر کی اذان کا وقت عموماً طلوع آفتاب سے ایک گھنٹہ میں منٹ سے ایک گھنٹہ تیس منٹ پہلے ہوتا ہے۔اور ساری دنیا کے معتدل علاقوں میں عموماً یہی اصول چلتا ہے۔اس زمانہ میں سائنس کی ترقی اور جدید آلات کی ایجاد کی وجہ سے طلوع فجر ، زوال آفتاب اور طلوع و غروب آفتاب کے بالکل معین اوقات کا علم ہو جاتا ہے جو پرانے زمانہ میں ممکن نہیں تھا۔اسلام نے نمازوں کے لئے صرف ایک معین وقت کا Hard and fast اصول مقرر نہیں فرمایا بلکہ اپنے متبعین کی سہولت کے لئے تمام نمازوں کے لئے ایک دورانیہ مقرر فرما دیا کہ فلاں سے فلاں وقت تک یہ نماز پڑھی جاسکتی ہے۔تاکہ لوگ اپنی سہولت کے مطابق ان اوقات کے 588