بنیادی مسائل کے جوابات — Page 564
ہونے کی حیثیت میں وہاں جاؤ گی۔تو جب بوڑھی وہاں جوان ہونے کی حیثیت میں جائے گی تو بد صورت وہاں خوبصورت حیثیت میں جائے گی۔جو لنگڑی لولی یہاں سے گئی ہے وہاں صحت مند اعضا، بھر پور نشوو نما کے ساتھ جائے گی۔تو زَوَّجْنَهُمْ بِحُورٍ عِيْنٍ کہ ان کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں باندھا جائے گا بڑھیا سے نہیں، جس حالت میں اس نے اس دنیا میں اپنی بیوی چھوڑی بلکہ خورٍ عِین کے ساتھ جو جوان بھی ہو گی، خوبصورت بھی ہو گی، نیک بھی ہو گی۔بہر حال یہاں حور کا لفظ زوج کی حیثیت سے آیا ہے۔(ملخص از خطبہ جمعہ مؤرخہ 19 فروری 1982، خطبات ناصر جلد نهم صفحہ 387،386) پس مذکورہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ حوروں سے مراد نیک اور پاک جوڑے ہیں جو جنت میں مومن مردوں اور مومن عورتوں کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں بندھے ہوں گے اور انہیں بطور انعام ملیں گے۔ان جوڑوں کی کیفیت کیا ہو گی؟ اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔انسان کو اس کا علم اسی وقت ہو گا جب وہ جنت میں جائے گا۔مذکورہ بالا تشریح سے آپ کے دوسرے سوال کا بھی جواب مل جاتا ہے کہ کیا عورت صرف مرد کے لئے پیدا کی گئی ہے؟ کیونکہ اسلام کے نزدیک مرد و عورت دونوں ایک دوسرے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔اور عقلمند میاں بیوی اس حقیقت کو سمجھ کر اس دنیا کو بھی اپنے لئے جنت بنا لیتے ہیں اور جنت میں بھی ایک دوسرے کی روحانی ترقی میں ممد و معاون ثابت ہوں گے۔(قسط نمبر 54 ، الفضل انٹر نیشنل 6 مئی 2023ء صفحہ 4) 564