بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 538 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 538

اسی دلیل سے میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا بھی ثابت ہو تا ہے۔کیونکہ اس تقسیم کی رُو سے ہزار ششم ضلالت کا ہزار ہے اور وہ ہزار ہجرت کی تیسری صدی کے بعد شروع ہوتا ہے اور چودہویں صدی کے سر تک ختم ہوتا ہے۔اس ششم ہزار کے لوگوں کا نام آنحضرت ا نے فیج اعوج رکھا ہے اور ساتواں ہزار ہدایت کا ہے جس میں ہم موجود ہیں۔چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے ضرور تھا کہ امام آخر الزمان اس کے سر پر پیدا ہو اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح۔مگر وہ جو اس کے لئے بطور ظل کے ہو۔کیونکہ اس ہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے جس پر تمام نبیوں نے شہادت دی ہے اور یہ امام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کہلا تا ہے وہ مجدد صدی بھی ہے اور مجدد الف آخر بھی۔اس بات میں نصاری اور یہود کو بھی اختلاف نہیں کہ آدم سے یہ زمانہ ساتواں ہزار ہے۔اور خدا نے جو سورہ والعصر کے اعداد سے تاریخ آدم میرے پر ظاہر کی اس سے بھی یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ساتواں ہزار ہی ثابت ہوتا ہے۔اور نبیوں کا اس پر اتفاق تھا کہ مسیح موعود ساتویں ہزار کے سر پر ظاہر ہو گا اور چھٹے ہزار کے اخیر میں پیدا ہو گا کیونکہ وہ سب سے آخر ہے جیسا کہ آدم سب سے اول تھا۔“ لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 207 تا208) پس یہ اس سلسلہ کا وہ آخری ہزار سال ہے جس میں خدا تعالیٰ نے آنحضور الم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق آپ کے روحانی فرزند اور غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خَاتَمُ الْخُلَفَاء کے طور پر مبعوث فرمایا۔آنحضور لم کی پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات سے یہی مستنبط ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے چونکہ یہ آخری ہزار سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ قائم ہونے والی خلافت احمد یہ حقہ اسلامیہ کا دور ہے۔اس لئے اگر کسی وقت دنیا کی اصلاح کے لئے کسی مصلح کی ضرورت پڑی تو اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی کے متبعین میں سے کسی ایسے شخص کو دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کرے گا جو وقت کا خلیفہ ہو گا لیکن خلیفہ سے بڑھ کر مصلح کا مقام بھی اسے عطا ہو گا۔جیسا 538