بنیادی مسائل کے جوابات — Page 469
سوال: محترم امیر صاحب جرمنی نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات میں نماز باجماعت کے لئے باہم نمازیوں کے در میان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنے کے بارہ میں رہنمائی چاہی۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 28 اپریل 2020ء میں اس بارہ میں درج ذیل ہدایات سے نوازا۔حضور نے فرمایا: جواب: آنحضور ﷺ کے ارشاد إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنیات کے تحت اسلام کے ہر حکم کی بناء نیت پر ہے۔پس نماز باجماعت کے لئے جو نمازیوں کو آپس میں کندھے سے کندھا، گھٹنے سے گھٹنا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر کھڑے ہونے اور باہم درمیان میں فاصلہ نہ چھوڑنے کی تاکید فرمائی گئی ہے، اس کی ایک حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ اگر تم ظاہر ااپنے اندر ڈوری پیدا کر لو گے تو شیطان تمہارے درمیان اپنی جگہ بنا کر تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا کر دے گا۔اب جبکہ مجبوری ہے اور حکومتیں اپنے شہریوں کی بھلائی کے لئے ایسے اقدامات کر رہی ہیں تو جب ہم حکومتی قوانین کے مطابق اس طرح باہم فاصلہ کے ساتھ نماز میں کھڑے ہوں گے تو چونکہ ہماری نیت یہ نہیں کہ ہمارے درمیان پھوٹ پڑے یا ہمارے در میان شیطان اختلاف ڈال دے، بلکہ ہماری تو یہی نیت ہے کہ ہم متحد رہیں اور مل کر اس بیماری کا مقابلہ کریں اور عوام کی بھلائی کے لئے کئے جانے والے ان حکومتی اقدامات میں ان کے ساتھ تعاون کریں تو اس نیت کے ساتھ اضطراری حالت میں نماز باجماعت میں نمازیوں کے درمیان فاصلہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔اور اس کا استنباط سفر میں بحالت مجبوری سواری پر نماز پڑھنے سے بھی کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس وقت بھی کندھے سے کندھا، گھٹنے سے گھٹنا اور ٹخنے سے ٹخنہ نہیں ملا ہوتا اور بعض اوقات نمازیوں کے درمیان باہم فاصلہ بھی ہوتا ہے۔پس جس طرح سفر میں مجبوری کی وجہ سے ایسا کرنا آنحضور ﷺ کی سنت سے ثابت ہے تو اس بیماری کی مجبوری کی حالت میں بھی نمازیوں کے درمیان فاصلہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور جلد ان مشکل حالات کو ساری دنیا سے دور کر دے تا کہ اس کے 469