بنیادی مسائل کے جوابات — Page 434
اس ضمن میں ایک مضمون حضور علیہ السلام نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ جس طرح فرشتے خدا تعالیٰ کے حکم سے اجرام فلکی پر اپنی تاثیرات ڈالتے اور اجرام فلکی کا ہماری زمین کی ظاہری چیزوں پر اثر ہوتا ہے اسی طرح ملائکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہمارے دل و دماغ پر اپنا روحانی اثر بھی ڈالتے ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ” در حقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے اور یہ حکمت کا ملہ خداوند تعالیٰ زمین کی ہر یک مستعد چیز کو اس کے کمال مطلوب تک پہنچانے کے لئے یہ روحانیات خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ظاہری خدمات بھی بجالاتے ہیں اور باطنی بھی۔جیسے ہمارے اجسام اور ہماری تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیاروں کا اثر ہے ایسا ہی ہمارے دل اور دماغ اور ہماری تمام روحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہماری مختلف استعدادوں کے موافق اپنا اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔جہاں تک فرشتوں کے زمین پر اترنے اور انسانوں سے میل جول کرنے کا سوال ہے تو اس بارہ میں یاد رکھنا چاہیئے کہ قرآن کریم، احادیث نبویہ اہل علم اور ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ فرشتوں کا زمین پر نزول ان کے اصلی وجود کے ساتھ ہر گز نہیں ہو تا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ انسانوں کی شکل میں متمثل ہو کر اس کے نیک بندوں سے میل جول کرتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم اور احادیث میں ایسے کئی واقعات کا ذکر موجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”یہی نفوس نورانیہ کامل بندوں پر بشکل جسمانی متشکل ہو کر ظاہر ہو جاتے ہیں اور بشری صورت سے متمثل ہو کر دکھائی دیتے ہیں۔“ توضیح مرام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 68 تا72) (قسط نمبر 12، الفضل انٹر نیشنل 2 اپریل 2021ء صفحہ 11) 434