بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 405 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 405

ایک اور جگہ فرمایا: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَةٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَي مَا فَعَلْتُمْ نَدِمِينَ (الحجرات :7) یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارے پاس اگر کوئی فاسق کوئی خبر لائے تو (اس کی) چھان بین کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم جہالت سے کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو پھر تمہیں اپنے کئے پر پشیمان ہونا پڑے۔پس اسلام نے اپنے متبعین کو اپنے اور پرائے ہر ایک کے معاملہ میں پوری طرح چھان بین کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔اور یقین کے مقابلہ پر صرف گمان کرنے کو پسند نہیں فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئً۔یقیناً ظن حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دیتا۔(يونس: 37) اس کے ساتھ قرآن کریم نے متعدد جگہوں پر اس مضمون کو بھی مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے منکرین کی مذہب کے معاملات میں کبھی کسی یقین پر بنیاد نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف ظنی اور خیالی باتیں کرتے ہیں۔اس لئے قرآن کریم نے مومنوں کو ظن سے بچنے کی تلقین فرمائی اور بعض قسم کے ظن کو گناہ بھی قرار دیا۔جیسا کہ فرمایا: يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (الحجرات:13) کہ اے مومنو! ظن سے بکثرت اجتناب کیا کرو۔یقیناً بعض ظن گناہ ہوتے ہیں۔آپ نے لکھا ہے کہ ہے کہ آپ کو ایسے خیالات آتے ہیں جو اسلام کی تعلیم سے متضاد ہیں۔نیز آپ نے لکھا ہے کہ آپ اسلام کے احکامات کے بارہ میں ریسرچ کر رہی ہیں۔ریسرچ کرنا بہت اچھی عادت ہے لیکن اس ضمن میں یہ بات مد نظر رکھنی بھی ضروری ہے کہ آپ کی ریسرچ کی بنیاد کن چیزوں پر ہے۔قرآن کریم، سنت نبوی ام اور احادیث کو سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس 405