بنیادی مسائل کے جوابات — Page 314
اپنے اختیار میں رکھا ہے اور انسان کو اس پر قدرت نہیں دی۔جیسا کہ فرمایا: قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيْلًا۔(سورة بني اسرائيل: 86 یعنی تو کہہ دے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔اسی طرح اسلام نے روح کے بارہ میں سوالات کرنے کو بھی پسند نہیں فرمایا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عربی تصنیف ”نور الحق“ میں سورۃ النبا کی آیت يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صوابا۔(آیت 39) کی تفسیر میں روح کے معانی بیان فرماتے ہوئے ساتھ نفس کا ذکر بھی فرمایا ہے۔جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، نیز حضور علیہ السلام کے اس ارشاد سے دونوں کا فرق بھی بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس آیت میں لفظ روح سے مراد رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی جماعت مراد ہے جن پر روح القدس ڈالا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہوتے ہیں۔۔۔اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو روح کے لفظ سے یاد کیا یعنی ایسے لفظ سے جو انقطاع من الجسم پر دلالت کرتا ہے۔یہ اس لئے کیا کہ تاوہ اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ وہ مظہر لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اپنے تمام قوتوں کی رُو سے مرضات الہی میں فنا ہو گئے تھے اور اپنے نفسوں سے ایسے باہر آگئے تھے جیسے کہ روح بدن سے باہر آتی ہے اور نہ ان کا نفس اور نہ اس نفس کی خواہشیں باقی رہی تھیں اور وہ روح القدس کے بلائے بولتے تھے ، نہ اپنی خواہش سے اور گویا وہ روح القدس ہی ہو گئے تھے جس کے ساتھ نفس کی آمیزش نہیں۔پھر جان کہ انبیاء ایک ہی جان کی طرح ہیں۔۔۔۔وہ اپنے نفس اور اپنے جنبش اور اپنے سکون اور اپنی خواہشوں اور اپنے جذبات سے بکلی فنا ہو گئے اور ان میں بجز روح القدس کے کچھ باقی نہ رہا اور سب چیزوں سے توڑ کے اور قطع تعلق کر کے خدا کو جاملے۔314