بنیادی مسائل کے جوابات — Page 178
ڈھانپ کر رکھنے کا ارشاد فرمایا (صحيح مسلم كتاب الاشربة باب الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السَّقَاءِ وَاغُلَاقِ الْأَبْوَابِ) اور ہڈیوں سے استنجا سے منع فرمایا اور اسے جنوں یعنی چیونٹیوں، دیمک اور دیگر جراثیم کی خوراک قرار دیا۔(صحیح بخاري كتاب المناقب باب ذكر الجن) علاوہ ازیں جن کا لفظ مخفی ارواح خبیثہ یعنی شیطان اور مخفی ارواح طیبہ یعنی ملائکہ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔جیسا کہ فرمایا: مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِكَ (سورة الجن:12) پس جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ ہر جگہ سیاق و سباق کے اعتبار سے اس لفظ کے معانی ہوں گے۔آپ کے سوال میں بیان سورة الرحمن کی آیت لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌ میں جن جو کہ انس کے مقابل پر استعمال ہوا ہے۔اس سے مراد خواص، بڑے رتبہ اور مقام والے، امیر لوگ اور بڑے بڑے رؤسا اور اکابر مراد ہیں۔اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن میں ان نیک بندوں کے لئے ایسی ایسی نعماء ہوں گی جو خالصتاً صرف اُن جنتیوں کے لئے ہوں گی اور ان سے پہلے یہ نعمتیں ہر قسم کے عوام و خواص کی دسترس سے پاک ہوں گی۔(قسط نمبر 46، الفضل انٹر نیشنل 23 دسمبر 2022ء صفحہ 11) 178