بنیادی مسائل کے جوابات — Page 171
لفظ استعمال ہوتا ہے۔Bacteria کے لئے بھی جن کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ رسول کریم اسلم نے ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا کہ یہ جن کی خوراک ہے۔اس زمانہ میں تو Bacteria کا کوئی تصور نہیں تھا نہ یہ پتہ تھا کہ کسی چیز کی خوراک ہے۔مگر بعد کے زمانوں میں تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ واقعی ہڈی کے ساتھ Bacteria چھٹے ہوتے ہیں اور وہ مُمضر ہیں اور اس سے استنجاء نہیں کرنا چاہیئے۔تو جن کا ایک معنی تو ہے مخفی۔ان معنوں میں جن کے سارے معنی ہیں۔ایک اور معنی ہے آگ سے پیدا ہوا ہوا۔جس میں ناری صفات پائی جاتی ہوں، جس میں بغاوت کی روح پائی جاتی ہو۔تو ہر وہ قوم جو آتشیں مزاج رکھتی ہو ، جو Volatile ہو، غصہ جلدی آتا ہو اور لڑاکا اور فسادی، بغاوت کرنے والی ان سب کو جن کہا جاتا ہے۔حضرت سلیمان اور حضرت داؤد کے جو غلام بنائے گئے تھے جن وہ ایسی قومیں تھیں جن پر فتح ہوئی اور ان میں جفا کشی بھی ساتھ تھی اور بغاوت کا مادہ بھی تھا۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے ان کو زنجیروں میں جکڑا گیا تھا اور ان سے ForcedLabour لی جاتی تھی۔اگر وہ اس قسم کے جن ہوں جیسے مولویوں کے دماغ میں پید اہوتے ہیں وہ زنجیروں میں تو نہیں جکڑے جاسکتے۔صاف پتہ چل گیا کہ وہ جن جو ہیں وہ کوئی مادی مخلوق ہے۔چنانچہ بڑے لوگوں اور Capitalist System کے لئے بھی قرآن کریم نے جن کا لفظ استعمال کیا ہے۔چوٹی کے لوگ خواہ وه Capitalist ہوں خواہ وہ عوامی حکومتوں کے نمائندے ہوں، ان کو سورۃ الرحمن میں اللہ تعالیٰ مخاطب کر کے فرماتا ہے يُمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَنٍ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبُنِ - معشر الجن ! اے جنوں میں سے چوٹی کے لوگو۔والانس اور اے عوام الناس میں سے چوٹی کے لوگو۔یہ مراد ہے وہاں پہ۔تو جن کا لفظ ان 171