بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 96

کے مقام پر فائز فرمایا۔انبیاء خدا تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں جن کا ادب اور احترام ہم پر واجب ہے۔پس انبیاء کی ذات کے بارہ میں اس قسم کے سوال ان کی شان کے خلاف متصور ہوتے ہیں۔خود بخود چلنے والے پین (Pen) والی بات غلط ہے۔نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایسا کوئی بین تھا اور نہ میرے پاس ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ کا اپنے پیاروں کے ساتھ ایسا تعلق ہوتا ہے کہ وہ ہر معاملہ میں خود ان کی رہنمائی کرتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا یہی تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے ساتھ ہے۔جہاں تک احمدیہ کمیونیٹی کا تعلق ہے تو یہ کوئی نیا مذہب نہیں ہے۔بلکہ اسلام کی حقیقی جماعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بانی اسلام حضرت اقدس محمد مصطفی الم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق قائم فرمایا ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ دنیا کی اصلاح اور بہتری کے لئے پہلے وقتوں میں مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں میں انبیاء مبعوث کرتا رہا ہے اور لوگوں کی رہنمائی کے لئے انہیں تعلیمات سے نوازتا رہا ہے۔اسی طرح اس نے ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی ایم کو ساری دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا اور قیامت تک قائم رہنے والی دائمی تعلیم قرآن کریم کا آپ پر نزول فرمایا۔حضور م نے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر پیشگوئی فرمائی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب اُمت مسلمہ میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا اور مسلمان اسلام کی حقیقی تعلیم سے دور ہو جائیں گے۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ اس اُمت پر رحم فرماتے ہوئے اس کی رہنمائی کے لئے حضور الم کے ہی متبعین میں سے آپ کے ایک غلام صادق کو کھڑا کرے گا جو لوگوں کو اس تعلیم پر قائم کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے حضور ا تم پر نازل فرمائی تھی اور جس کی تشریح آپ نے اپنے اقوال و افعال سے فرمائی تھی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ساری زندگی اس ذمہ داری کو نبھانے میں صرف فرمائی۔آپ کے وصال کے بعد حضور الم کی ہی پیشگوئی کے مطابق جماعت احمدیہ میں خلافت کا بابرکت سلسلہ جاری ہوا اور جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت کے بابرکت سائے میں اسلام کا پُر امن پیغام اور اس کی خوبصورت تعلیم ساری دنیا میں پہنچانے پر کمربستہ ہے۔پس احمدیہ کمیونیٹی کسی انسان کا بنایا ہوا ادارہ نہیں جس کے سادہ ہونے یا نہ ہونے پر بات کی جائے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا لگایا ہوا ایک پودہ ہے جو اسی کی دی ہوئی تعلیمات انسانوں کی بھلائی کے لئے دنیا 96