بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 54

کے لئے اللہ کے فضل سے آپ نے قربانیاں دی ہیں۔مسجدوں میں بم بھی پھٹے ، ہمارے مرتی کی ٹانگ بھی ضائع ہوئی، زخمی بھی ہوئے، شہید بھی ہوئے۔تو وقتا فوقتا ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔اور میں اللہ تعالیٰ سے حالات کی بہتری کے لئے دعا بھی کرتا رہتا ہوں۔فکر بھی رہتی ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ دلجوئی کا مقام حاصل کرنے کے لئے آپ کو بھی کوشش کرنی پڑے گی۔اس لئے ہر مرتی اور معلم یہ عہد کرے کہ اس نے ڈرتے ڈرتے دن گزارنا ہے اور تقویٰ۔رات بسر کرنی ہے۔اور احمدیت کا پیغام پہنچانے کی جو ذمہ داری اس پہ ڈالی گئی ہے، اس کو ایک خاص ولولہ اور جوش سے ملک کے کونے کونے میں پھیلانا ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے عملی نمونے دکھانے ہیں، اپنے اندر قناعت پیدا کرنی ہے۔جو بھی تھوڑا بہت گزارا ملتا ہے، اور جو بھی تھوڑی بہت سہولیات جماعت کی طرف سے ملتی ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے۔اور ان کو بہت سمجھنا ہے۔اور اپنی قربانی کے معیار کو بلند سے بلند تر کرتے چلے جانا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں بڑھنا ہے۔اپنی راتوں کو زندہ کرنا ہے۔ہر مرتی اور معلم کا کام ہے کہ کم از کم ایک گھنٹہ تہجد کی نماز پڑھے۔اپنے جائزے لیں کہ کیا آپ لوگ ایک گھنٹہ تہجد پڑھتے ہیں؟ کیا آپ لوگ رات کو اٹھ کے ایک گھنٹہ نفل میں اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کے دعا کرتے ہیں؟ کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے آسانیاں پیدا کرے اور جماعت کی ترقی کے سامان پیدا فرمائے۔پھر قرآن کریم یہ تدبر اور غور کرنے کی عادت ڈالیں۔صرف چند ایک بنے بنائے مضمون ہیں، ان کو پڑھنے سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔اپنے علم کو بڑھائیں، اور وسیع تر کرنے کی کوشش کریں۔یہی چیز ہے جو آپ کے لئے آگے انشاء اللہ کام بھی آئے گی اور آپ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے علماء سے بحث کرنے کے بھی قابل ہوں گے اور عوام الناس کو بھی بتانے کے قابل ہوں گے۔ظاہری فقہ اور حدیث اور قرآن کی بعض تفسیریں تو بعض غیر احمدی علماء نے آپ سے زیادہ پڑھی ہوں گی اور وہ پڑھ کے اس کو بیان بھی کر سکتے ہیں لیکن آپ نے وہ حقیقت بیان کرنی ہے جو اس زمانہ کے حکم اور عدل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتائی اور سمجھائی ہیں۔اور وہی فقہ ہے جو ہم نے جاری کرنی ہے۔وہی قرآن کریم کی تفسیر ہے، وہی حدیث کی تشریح ہے جو ہم نے دنیا کو بتانی ہے۔اور اس کے لئے آپ کو محنت کرنی پڑے گی، اپنے علم 54