بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 25

پس یہ کام جس طرح آنحضور ﷺ کے بعد قائم ہونے والی خلافت راشدہ نے کئے آپ ان کے روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے نتیجہ میں قائم ہونے والی خلافت احمد یہ حقہ اسلامیہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی کام اس زمانہ میں انجام دینے کی توفیق پا رہی ہے۔4۔جہاں تک مینارۃ المسیح کا تعلق ہے تو جس طرح سابقہ انبیاء اور خدا تعالیٰ کے فرستادہ اپنے زمانوں میں پیشگوئیوں کو ظاہری طور پر بھی پورا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، اسی سنت انبیاء کی اتباع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی خدا تعالیٰ کے اذن سے حضور ام کی درج ذیل پیشگوئی کو ظاہری طور پر پور کرنے کے لئے اس مینارہ کی تعمیر شروع کروائی۔حضرت نواس بن سمعان ایک لمبی روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضور ام نے اس میں فرمایا کہ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ۔(صحیح مسلم کتاب الفتن واشراط الساعة) یعنی جب اللہ تعالی عیسی بن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا تو وہ دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے پاس اتریں گے۔حضور ا کی اس پیشگوئی کو ظاہراً پورا کرنے کے لئے کئی مسلمان بادشاہوں نے اس قسم کے مینارہ کی تعمیر کی کوشش کی۔چنانچہ 461 ہجری میں دمشق میں جامع اموی میں ایک مینارہ تعمیر کیا گیا، جسے کئی سال بعد عیسائیوں نے آگ لگا کر تباہ کر دیا۔بعد کے ادوار میں اس مینارہ کو دوبارہ تعمیر کیا گیا لیکن پھر آتش زدگی سے یہ مینارہ اور مسجد دونوں جل گئے۔تیسری مرتبہ 805 ہجری میں شام کے گورنر نے اس مینارہ کی تعمیر کا کام شروع کیا اور اسے منارہ عیسی کا نام دیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی بعثت قادیان کی بستی ، جو دمشق کے عین مشرق میں واقع ہے، میں ہوئی، آپ نے بھی حضور اہیم کی اس پیشگوئی کی ظاہری علامت کو پورا کرنے کے لئے ایک مینارہ کی تعمیر شروع کروائی۔جو بعض نا مساعد مالی حالات کی وجہ سے آپ کے عہد مبارک میں مکمل نہ ہو سکی لیکن آپ کے دوسرے خلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں ہی یہ تعمیر مکمل ہو کر یہ مینارہ 1915ء میں اپنی تکمیل کو پہنچا اور آج بھی آپ علیہ السلام کی بعثت کے مقام پر منارۃ المسیح کے نام سے موجود ہے۔بانی 25