بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 20

سوال: ایک غیر از جماعت خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمتِ اقدس میں اپنی اور اپنے بھائی کی بعض خواہیں لکھ کر ان کے بارہ میں حضور انور سے رہنمائی چاہی، نیز جماعت کے بارہ میں اپنے بعض سوالات کے جواب بھی حضور انور سے دریافت کئے۔اسی طرح ایک احمدی لڑکے سے شادی کرنے کی اجازت بھی مانگی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 28 اگست 2021ء میں اس خط کے جواب میں درج ذیل ہدایات عطا فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب باقی جہاں تک آپ کے سوالوں کا تعلق ہے تو ان کے تفصیلی جوابات تو ہمارے سلسلہ کی مختلف کتب میں موجود ہیں، وہاں سے آپ یہ تفصیلی جواب پڑھ سکتی ہیں۔یہاں اختصار کے ساتھ میں ان کا جواب آپ کو بتا دیتا ہوں۔1۔علماء دین اور عقل رکھنے کا دعویٰ کرنے والے مسلمانوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت میں پوری ہونے والی پیشگوئیوں اور نشانیوں کا نظر نہ آنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے نصیب ہوتا ہے۔صرف کسی کے علم اور عقل کی بناء پر حاصل نہیں ہو جاتا۔اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے آقا و مولا حضرت اقدس محمد الم کے نور نبوت کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ جیسے ایک ان پڑھ اور ناخواندہ غلام نے تو پہچان لیا لیکن مکہ کی وادی کا سر دار اور حکمت کا باپ کہلانے والا (ابو الحکم ) اس نور کو نہ دیکھ سکا اور اس نور نبوت کو نہ ماننے کے نتیجہ میں ابو جہل کہلایا۔2۔آنحضور ا کے اپنی ذات کے بارہ میں لا نَبِيَّ بَعْدِي کے الفاظ فرمانے کی حقیقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( جن کے بارہ میں حضور لال کی ہم نے ارشاد فرمایا تھا کہ دین کا نصف علم عائشہ سے سیکھو) نے اس طرح بیان فرمائی کہ: قُولُوا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَ لَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ - (مصنف ابن ابي شيبه جزء6 حدیث نمبر 219) یعنی تم حضور ا کو خاتم النبیین تو کہو لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد نبی نہیں ہو گا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس فرمان کی وجہ یہ تھی کہ حضور ام اور خلافت راشدہ کا زمانہ گزرنے کے بعد لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہونا شروع ہو گئے تھے کہ آپ ﷺ کے بعد ہر قسم کی 20